Updated: January 07, 2026, 9:00 PM IST
| Tehran
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے سیکوریٹی اداروں کو پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور مظاہرین و مسلح فسادیوں میں واضح فرق پر زور دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کو مظاہروں کے حوالے سے سخت انتباہات دیے گئے ہیں۔
ایران کے صدرمسعود پیزشکیان۔ تصویر: آئی این این
بدھ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے سیکوریٹی فورسیز کو مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کے کریک ڈاؤن سے گریز کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرامن مظاہرین اور مسلح ’’فسادیوں‘‘ کے درمیان فرق کیا جانا ضروری ہے۔ ایران کے نائب صدر محمد جعفر گھیمپناہ نے کابینی اجلاس کے بعد نیوز ایجنسی مہر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر پیزشکیان نے ہدایت دی ہے کہ مظاہرین کے خلاف کوئی حفاظتی یا سخت اقدامات نہ کئے جائیں۔ان کے مطابق ’’جو افراد آتشیں اسلحہ، چاقو یا دیگر ہتھیار اٹھاتے ہیں اور پولیس اسٹیشنوں یا فوجی تنصیبات پر حملے کرتے ہیں، وہ فسادی ہیں۔ ہمیں پرامن مظاہرین اور فسادی عناصر میں واضح فرق کرنا چاہئے۔‘‘
اس تناظر میں ۲؍ جنوری کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ مظاہرین پر طاقت کا استعمال نہ کرے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کیا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ امریکہ ’’لاک اینڈ لوڈ‘‘ ہو کر کارروائی کیلئے تیار ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی لاریجانی نے گزشتہ جمعہ کو خبردار کیا کہ ایرانی مظاہروں میں امریکی مداخلت پورے خطے میں افراتفری کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کا بیان ٹرمپ کے حالیہ انتباہ کے بعد سامنے آیا، جس میں واشنگٹن کی ممکنہ مداخلت کا ذکر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’لاپروا اور خطرناک‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملوں کو کسی بھی ملک میں برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ایران اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔ عراقچی کے مطابق ایرانی عوام ماضی کی طرح مستقبل میں بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔