یمنی علاحدگی پسندوں نے آزادی کا مطالبہ کیا، جبکہ سعودی عرب نے مہلک حملوں کے بعد بات چیت پر زور دیا، اسی دوران عرب امارات نے یمن سے اپنا فوجی انخلاء مکمل کرلیا۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 8:00 PM IST | Riyadh
یمنی علاحدگی پسندوں نے آزادی کا مطالبہ کیا، جبکہ سعودی عرب نے مہلک حملوں کے بعد بات چیت پر زور دیا، اسی دوران عرب امارات نے یمن سے اپنا فوجی انخلاء مکمل کرلیا۔
جمعہ۲؍ جنوری کو یمن کے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علاحدگی پسندوں نے دو سالہ آزادی کی منتقلی کا اعلان کیا۔ اس سے قبل سعودی قیادت میں اتحاد نے دو فوجی اڈوں، ایک ہوائی اڈے اور دیگر مقامات پر فضائی حملے کیے، جس میں۲۰؍ افراد ہلاک ہوئے۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے مہلک فضائی حملوں اور آزادی کے اعلان کے بعد یمنی جنوبی گروپوں سے ریاض میں مذاکرات میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ ایک بیان میں، سعودی وزارت نے ریاض میں ایک جامع کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی تاکہ تمام جنوبی گروپوں کو اکٹھا کیا جائے اور جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل پر بات چیت کی جائے، اور موجودہ حالات میں مشترکہ مفادات کی روشنی میں، اور یمن کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے اور مذاکرات کے لیے موزوں ماحول فراہم یا جاسکے۔وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ سعودی عرب یمنی صدارتی قیادتی کونسل کے صدر کی درخواست کا خیرمقدم کرتا ہے اور تمام جنوبی گروپوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے جامع وژن تیار کرنے کے لیے کانفرنس میں فعال طور پر حصہ لیں جو جنوبی عوام کی جائز خواہشات پوری کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ کی گرفتاری کی تصدیق کی
بعد ازاںجنوبی منتقلی کونسل آزادی کا اعلان کرنے اور ایک علیحدہ ریاست قائم کرنے پر زور دے رہی ہے، جو جزیرہ نمائے عرب کے سب سے غریب ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گی۔ یمن۱۹۶۷ء سے ۱۹۹۰ء تک شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم رہا۔ علاحدگی پسند گروہ کے صدر عیداروس الزوبیدی نے مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات نہ ہوئے یا جنوبی یمن پر دوبارہ حملہ ہوا تو گروپ فوری طور پر آزادی کا اعلان کر دے گا۔
دریں اثناء متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے یمن کے جنوبی علاقوں سے تمام فوجی دستوں کو واپس بلا لیا ہے، یہ اقدام سعودی اور ابوظہبی حمایت یافتہ گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے درمیان کیا گیا ہے۔اماراتی خبر ایجنسی نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ وزارت دفاع نے اپنے اہلکاروں کے تحفظ ، اور خطے میں سلامتی اور استحکام کی خاطر یہ فیصلہ کیا گیا۔واضح رہے کہ ۲۰۲۵ء کے آخر میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ جنوبی منتقلی کونسل (ایس ٹی سی) کے علاحدگی پسندوں نے یمن کے اہم مشرقی صوبوں پر قبضہ کر لیا، جن میں حضرالموت بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں سعودی نے مبینہ اماراتی ہتھیاروں کی ترسیل پر حملہ کیا اور امارات کی واپسی کی مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: اقتصادی مطالبات منصفانہ لیکن فسادیوں کو بخشا نہیں جائے گا: سپریم لیڈر
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات ایس ٹی سی کی حمایت کرتا ہے اور برسوں سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا حصہ رہا ہے، جس کی سعودی عرب حمایت کرتا ہے، اور حوثیوں کے خلاف جنگ کی قیادت کرتا رہا ہے۔دریں اثنا، ایس ٹی سی نے جمعہ کو کہا کہ اس کا مقصد شمال سے آزادی پر دو سال میں ریفرنڈم منعقد کرنا ہے۔ایس ٹی سی افواج کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ بیان ایس ٹی سی کے دعووں کے بعد آیا کہ اتحادی حملوں کے نتیجے میں الخاشا اور سیئون میں فوجی اڈوں پر حملوں میں ان کے کم از کم ۲۰؍ جنگجو ہلاک ہوئے۔دریں اثنا، مقامی حکام اور ریاستی میڈیا کے مطابق یمنی حکومتی افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے مشرقی صوبہ حضرالموت میں کئی اہم فوجی پوزیشنوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے کیونکہ ایس ٹی سی سے وابستہ افواج نے اہم مقامات سے واپسی اختیار کر لی ہے ۔یہ کیمپ حضرموت میں سب سے زیادہ اسٹریٹجک فوجی تنصیبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جانب بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا: ایرانی قیادت
یمن میں منگل کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جب ایس ٹی سی افواج نے دسمبر کے آغاز میں حضرالموت اور المہرہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔یہ دونوں صوبے یمن کے تقریباً آدھے علاقے پر محیط ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ سرحدیں بانٹتے ہیں۔سعودی عرب نے اسی دن متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ ’’ایس ٹی سی افواج کو سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیاں کرنے کے لیے اکسانےکا ذمہ دار ہے۔‘‘ تاہم ابوظہبی نے اس الزام سے انکار کیا۔ایس ٹی سی کا الزام ہے کہ یمن کی متواتر حکومتوں نے جنوبی علاقوں کو سیاسی اور اقتصادی طور پرپسماندہ رکھا۔جبکہ یمنی حکام اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور ملک کی وحدانیت کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔