ویانامذاکرات میں معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں: ایران

Updated: January 10, 2022, 12:52 PM IST | Agency | Vienna

حالانکہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ویانا میں جاری مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے

Ali Baqeri, Iran`s senior negotiator.Picture:INN
ایران کے سینئر مذاکرات کار علی باقری ۔ تصویر: آئی این این

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران کے سینئر مذاکرات کار علی باقری نے اعلان کیا ہے کہ ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کےلئے  الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ اس سے قبل ویانا میں روس کے مندوب میخائل اولیانوف کا کہنا تھا کہ ایرانی جوہری معاہدے  سے متعلق بات چیت میں مثبت اور عملی فضا دیکھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے شرکاء تیزی سے نہیں بلکہ بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق علی باقری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بات چیت میں شریک زیادہ تر ممالک اس نمایاں پیش رفت کا اقرار کر رہے ہیں۔اس سے قبل روسی مندوب اولیانوف نے انکشاف کیا تھا کہ جوہری معاہدے میں شریک ممالک اور امریکہ  نے ایران کے بغیر ایک روایتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں روسی وفد نے متعدد تجاویز پیش کیں تا کہ جوہری معاہدے کی بحالی میں حائل رکاوٹوں کا حل نکالا جا سکے۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ویانا میں جاری مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ تہران نے روس اور چین کی مدد سے اپنے بعض مطالبات سے دستبرداری  کا اعلان کر کے گیند مغرب کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔  ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہيان نے چند روز قبل کہا تھا کہ مذاکرات’’طبعی اور اچھی شکل‘‘ میں جاری ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے ایسی تجاویز پیش کی ہیں جن سے مثبت فضا قائم کرنے میں مدد ملی لہٰذا اب معاملہ مغرب کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے تا کہ یہ بات سامنے آ جائے کہ وہ کسی اچھے معاہدے تک پہنچنے کیلئے  اچھی نیت اور سنجیدہ ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ روسی مندوب میخائل اولیانوف نے العربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی پابندیاں اب بھی مذاکرات کاروں کی میز پر ایک اہم ترین رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔  یاد رہے کہ ویانا میں ایران اور مغربی ممالک (برطانيہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس) کے بیچ جوہری بات چیت امریکہ کی بالواسطہ شرکت کے ساتھ اپریل۲۰۲۱ء میں شروع ہوئی تھی۔ اس کے۷؍ادوار ہوئے تھے اور پھر ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے منتخب ہونے کے بعد جون ۲۰۲۱ء میں یہ سلسلہ موقوف ہو گیا تھا۔ بعد ازاں نومبر میں بات چیت کا آٹھواں دور شروع ہوا۔

iran vienna Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK