Inquilab Logo Happiest Places to Work

گفتگو میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی دوغلی پالیسی ہے: ایران

Updated: June 08, 2026, 12:23 PM IST | Tehran

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری بات چیت میں سب سے بڑا مسئلہ ٹرمپ انتظامیہ کا مسلسل بدلتا ہوا اور باہمی متضاد رویہ ہے، جس سے گفتگو کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو گیا ہے۔

Ismail Baqai. Photo: INN
اسماعیل بقائی۔ تصویر: آئی این این

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری بات چیت میں سب سے بڑا مسئلہ ٹرمپ انتظامیہ کا مسلسل بدلتا ہوا اور باہمی متضاد رویہ ہے، جس سے گفتگو کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کے روز سی این این کے سینئر بین الاقوامی نامہ نگار فریڈرک پلائیٹگن سے تہران میں گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو مسلسل بدلتے ہوئے رخ، اہداف کو تبدیل کرنے کے رجحان اور مختلف حکام کے الگ اور متضاد بیانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پورا عمل انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی پہلی خاتون جنگی ہیلی کاپٹر پائلٹ کو انتونیوغطریس کے ہاتھوں اعزاز

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کئی متنازع مسائل ہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکہ کو ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا، جس میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت پرامن جوہری افزودگی کا حق بھی شامل ہے۔ بقول اسماعیل بقائی ’’جب وہ ہمارے منجمد اثاثوں کی بات کرتے ہیں تو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ‘‘ واضح رہے کہ ایران طویل عرصے سے غیر ملکی بینکوں میں جمع اپنے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو واگزار کرانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر اپریل میں نافذ العمل ہونے والی جنگ بندی کا احترام نہ کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ ’’وہ آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی بحری راستوں میں ہمارے تجارتی جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ‘‘ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی غیر مستحکم اور خطرناک ہے اور اس کے لئے خطے اور جنگ بندی کے تئیں امریکہ کا ’’لاپروا رویہ‘‘ ذمہ دار ہے۔ 
دوسری طرف، امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں ’’ایرانی جارحیت کے خلاف دفاع‘‘ کے لئے تیار ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ہفتے کی رات اس نے جہاز رانی کیلئے خطرہ بننے والے مزید دو ایرانی ڈرون مار گرائے۔ اس کے جواب میں اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی حملے کا ’’پوری طاقت سے جواب دینے کیلئے پرعزم اور تیار‘‘ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK