ایران میں فوج کے سینئر کماڈروں نے فوج کو متحد رہ کر مقابلہ کرنت کی نصیحت کی ہے۔ کمانڈروں نے کہا ہے کہ فوج کا اتحاد دشمن کے خلاف ایک ہتھیار ہے۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 7:04 PM IST | Istanbul
ایران میں فوج کے سینئر کماڈروں نے فوج کو متحد رہ کر مقابلہ کرنت کی نصیحت کی ہے۔ کمانڈروں نے کہا ہے کہ فوج کا اتحاد دشمن کے خلاف ایک ہتھیار ہے۔
سینئر ایرانی فوجی کمانڈروں نے ملک کی مسلح افواج کے درمیان اتحاد پر زور دیا اور ایران کا مرتے دم تک دفاع کرنے کا عہد کیا جسے انہوں نے ممکنہ امریکی حملے کے خطرات کے طور پر بیان کیا۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی فوج کی زمینی افواج کے کمانڈر علی جہانشاہی نے کہا کہ بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کے اندر اتحاد ضروری ہے۔ جہانشاہی نے کہا کہ ’’مسلح افواج کے درمیان اتحاد بحران کے دوران دشمنوں کو ناکام بنانے کی کلید ہے۔‘‘ مزید کہا کہ ’’مسلح افواج کو ایک جسم کے طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ دشمن ان کا مقابلہ کرتے وقت خود کو بے بس محسوس کرے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران نے اقوام متحدہ میں سفارتی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا
انہوں نے کہا کہ فوج کی زمینی افواج ایران کے دفاع کے لیے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی زمینی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی اور اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سرزمین کی حفاظت میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ مختلف تبصروں میں، (آئی آر جی سی) زمینی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد کرامی نے ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کے درمیان اتحاد نے دشمن کے منصوبوں کو پہلے ہی ناکام بنا دیا ہے۔ کرامی نے کہا کہ ’’مسلح افواج کے درمیان موجودہ ہم آہنگی ایک قیمتی اثاثہ ہے جسے سنجیدگی کے ساتھ برقرار اور مضبوط کیا جانا چاہیے۔‘‘ اسرائیل کے چینل ۱۲؍ نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں اس خدشے پر تناؤ بڑھ گیا ہے کہ ایران پہلے حملہ کر سکتا ہے اور یہ خدشات ہیں کہ تہران خود بھی ممکنہ امریکی فوجی حملے کا نشانہ بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: منیاپولس میں ہنگامہ، ٹرمپ کا گورنر اور میئر پر بغاوت اکسانے کا الزام
واضح ہو کہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر دباؤ دسمبر کے اواخر سے بڑھا، جب معاشی اور حالات زندگی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ملک بھر میں مظاہرے شروع ہوئے۔ تہران نے واشنگٹن پر پابندیوں، سیاسی دباؤ اور بدامنی کو فوجی مداخلت اور حکومت کی تبدیلی کا بہانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔