Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے ’’پتھر کے زمانے‘‘ کا بیان، اے آئی، میمز کے ذریعے ایران کے نشانے پر

Updated: April 03, 2026, 10:13 PM IST | New Delhi

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’’پتھر کے زمانے‘‘ والے بیان کے بعد ایران نے غیر روایتی مگر طاقتور انداز میں جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے اے آئی ویڈیوز اور میمز کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو ہدفِ تنقید بنایا۔ اس سوشل میڈیا مہم کے مشمولات امریکہ اور اسرائیل کے خلاف طنزیہ اور بصری پیغامات پر مبنی تھے۔ یہ پوسٹس ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایرانی صارفین اور حامیوں نے طنز، مزاح اور تخلیقی انداز میں بیانیہ بدل دیا، جسے عالمی سطح پر خاصی پذیرائی ملی۔ انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد ایران کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے ایران کو ’’پتھر کے زمانے‘‘ میں واپس بھیجنے کی دھمکی دی، کے فوراً بعد ایران نے روایتی سفارتی یا عسکری ردعمل کے بجائے ایک غیر معمولی اور جدید حکمت عملی اختیار کی۔ ایران نے سوشل میڈیا کو میدانِ جنگ بنایا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ ویڈیوز اور میمز کی بارش کر دی، جن کا ہدف براہِ راست امریکہ اور اسرائیل تھے۔ یہ ڈجیٹل مہم نہ صرف رفتار میں تیز تھی بلکہ مواد کے لحاظ سے بھی انتہائی تخلیقی اور اثر انگیز ثابت ہوئی۔ چند ہی گھنٹوں میں درجنوں اے آئی ویڈیوز اور سیکڑوں میمز وائرل ہو گئے، جنہوں نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا کہ کیا اب جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیانیے اور ڈجیٹل اثر و رسوخ سے بھی لڑی جائیں گی۔
سوشل میڈیا صارفین نے طنز اور مزاح کے ذریعے سخت سیاسی پیغام پہنچایا۔ ایک وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا کہ اگر ایران واقعی ’’پتھر کے زمانے‘‘ میں چلا جائے تو امریکہ خود جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہو کر مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک اور میم میں ٹرمپ کو قدیم دور کے لباس میں دکھایا گیا، جس کے ساتھ کیپشن تھا: ’’اصل پتھر کا زمانہ تو یہاں ہے۔‘‘
پیش ہیں ’’پتھر کے زمانے‘‘ کے جواب میں ایران کے چند میمز اور اے آئی ویڈیوز نیز صارفین کے دلچسپ تبصرے۔

(۱) ٹرمپ بطور غاروں میں رہنے والے انسان، فارسی بادشاہ کے سامنے
ایک اے آئی تصویر میں ڈونالڈ ٹرمپ کو غار میں رہنے والے ایک خوفزدہ انسان کے طور پر دکھایا گیا، جبکہ ایک قدیم فارسی بادشاہ ان کے سامنے کھڑا ہے۔ کیپشن: ’’جب تم غاروں میں تھے، ہم سلطنتیں بنا رہے تھے۔‘‘

(۲) ’’آپ اسٹون ایج میں پہنچ چکے ہیں‘‘
ایک کلپ میں امریکی شہروں کو تباہ شدہ اور تاریکی میں دکھایا گیا ہے جس پر لکھا ہے: ’’آپ اسٹون ایج میں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔‘‘ 

(۳) نیتن یاہو اور ٹرمپ ’’لیگو‘‘ کارٹون میں تباہ ہوتے ہوئے
لیگو اسٹائل اے آئی ویڈیو میں نیتن یاہو اور اور ٹرمپ کو کارٹون کرداروں کے طور پر دکھایا گیا جو اپنی ہی پالیسیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 

(۴) امریکی فوج بطور پتھر پھینکنے والے
میم میں جدید امریکی فوج کو پتھر اور لکڑی کے ہتھیاروں کے ساتھ دکھایا گیا، کیپشن: ’’سپر پاور ۲۰۲۶ء‘‘ 

(۵) اسرائیل بطور تنہا جزیرہ
ایک اے آئی ویڈیو میں اسرائیل کو ایک چھوٹے جزیرے کے طور پر دکھایا گیا جو چاروں طرف اندھیرے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔

(۶) ٹرمپ کا ڈیپ فیک، خود پر ہنستا ہوا
ایک ویڈیو میں ٹرمپ خود کہتے ہوئے ہنستے ہیں کہ ’’شاید میں ہی پتھر کا زمانہ ہوں۔‘‘ اسےصارفین نے طنزیہ طور پر وائرل کیا۔

(۷) ’’میک امریکہ کیو اگین‘‘ 
ٹرمپ کے مشہور نعرے ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کو بدل کر دکھایا گیا۔ لکھا گیا ’’میک امریکہ کیو اگین۔‘‘ پس منظر میں غار اور آگ جل رہی ہے۔

(۸) اسرائیلی قیادت بطور قدیم جنگجو
ایک کلپ میں اسرائیلی لیڈروں کو پتھر کے ہتھیاروں کے ساتھ لڑتے دکھایا گیا، جبکہ سامنے جدید ڈرونز ہیں۔

(۹) امریکی میڈیا بطور پتھر کی تختی
سی این این اور دیگر میڈیا لوگوز کو پتھر پر کندہ کر کے دکھایا گیا، جیسے خبریں ہزاروں سال پرانی ہوں۔

(۱۰) جب آپ غاروں میں تھے
ایک وائرل کلپ میں ایران کی قدیم تہذیب دکھائی گئی جس میں ایرانی ترقی کرتے نظر آرہے ہیں، ساتھ ہی امریکی تاریخ کو مختصر بتایا گیا ہے جو ایران سے برسہا برس قدیم نظر آرہی ہے۔

(۱۱) امریکی انفراسٹرکچر کا خاتمہ
ایک اے آئی ویڈیو میں بڑے امریکی شہر چند سیکنڈ میں کھنڈرات میں بدل جاتے ہیں، اور آخر میں لکھا آتا ہے: ’’ ویلکم ٹو اسٹون ایج۔‘‘ 

(۱۲) اسرائیل کی ڈجیٹل تنہائی 
ایک ویڈیو میں اسرائیل کے نقشے کو ڈجیٹل گلیچ میں غائب ہوتے دکھایا گیا، جیسے وہ عالمی نظام سے باہر ہو رہا ہو۔

(۱۳) ٹرمپ بطور قدیم بادشاہ، مگر ناکام
ایک میم میں ٹرمپ کو تخت پر بیٹھا دکھایا گیا، مگر ان کے اردگرد سب کچھ بکھرا ہوا ہے۔

(۱۴) اے آئی وار ورسیز ریئل وار
ایک طرف امریکی بیانات، دوسری طرف ایرانی میمز — آخر میں کیپشن: ’’ایک بم سے لڑتا ہے اور دوسرا دماغ سے۔‘‘ 

(۱۵) میزائل پر طنزیہ پیغامات
ایرانی سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں میزائلوں پر طنزیہ جملے لکھے دکھائے گئے، جو براہِ راست ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہیں۔ 

(۱۶) جب دنیا پر ایران کی حکومت تھی
ایک اے آئی ویڈیو میں عالمی نقشے کو الٹ کر دکھایا گیا، جہاں ایران مرکزی طاقت کے طور پر ہے۔ مشرق وسطیٰ پر اس کا تسلط ہے جبکہ امریکہ کونے میں سمٹا ہوا ہے اور اسرائیل کی وجود ہی نہیں ہے۔ اس ویژول میں دنیا کے نقشے کو اس طرح تبدیل کیا گیا کہ ایران مرکز میں نمایاں ہے جبکہ دیگر ممالک کناروں پر ہیں، جو طاقت کے توازن کو بصری انداز میں بدلتا ہے۔

(۱۷) ڈجیٹل فوج 
یہ ایک تیز رفتار ویڈیو ہے جس میں ہزاروں سوشل میڈیا صارفین، اسکرینز اور پوسٹس کو ایک فوجی ترتیب میں دکھایا گیا، جیسے ایک آن لائن لشکر ہو۔ اور یہ لشکر ہے ایران کا جو دماغ سے جنگ لڑرہا ہے۔

(۱۸) سوشل میڈیا سپورٹ
اس ویڈیو میں مختلف زبانوں میں کیے گئے تبصروں کو یکجا کر کے دکھایا گیا، جس میں صارفین ایران کے حق میں ردعمل دیتے نظر آتے ہیں۔

یہ تمام مثالیں صرف مزاح تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کے ذریعے ایک مضبوط سیاسی بیانیہ بھی قائم کیا گیا۔ خاص طور پر نوجوان صارفین نے ان میمز کو بھرپور انداز میں شیئر کیا، جس کے نتیجے میں ایران کا مؤقف عالمی ڈجیٹل اسپیس میں نمایاں ہو گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ جدید دور میں سوشل میڈیا اور اے آئی ٹیکنالوجی کس طرح سفارتی اور نفسیاتی جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ روایتی میڈیا کے مقابلے میں یہ پلیٹ فارمز نہ صرف تیز رفتار ہیں بلکہ عوامی رائے کو فوری طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مزید برآں، اس ڈجیٹل مہم نے یہ بھی دکھایا کہ ریاستی بیانیے اب صرف سرکاری بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ عام صارفین بھی اس میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران کے حق میں آنے والے تبصروں اور حمایت نے اس بات کو تقویت دی کہ عالمی سطح پر عوامی رائے تیزی سے بدل سکتی ہے، خصوصاً جب اسے تخلیقی انداز میں پیش کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK