Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران امریکہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب، توسیع کیلئے سفارتی سرگرمیاں تیز

Updated: April 20, 2026, 8:03 PM IST | Tehran

ایران اور امریکہ کے درمیان ۱۵؍ روزہ جنگ بندی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر سمیت ثالث ممالک جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے اگلے دور کیلئے متحرک ہو گئے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں آئندہ ۲۴؍  گھنٹوں پر مرکوز ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ۱۵؍ روزہ عارضی جنگ بندی کل ختم ہونے والی ہے، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ سفارتی محاذ پر سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں تاکہ جنگ بندی میں توسیع ممکن بنائی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے اعلیٰ حکام اس وقت دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد جنگ بندی کی مدت میں اضافہ کرنا اور کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ: امارات کا تیل کی فروخت کیلئے چینی یوآن کا سہارا لینے کا عندیہ

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک پسِ پردہ دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں زیادہ ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ایران کو باضابطہ طور پر مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شامل کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکہ کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف سفارتی چینلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں مختلف ممالک کا کردار اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سعودی عرب اور ترکی ایران پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان اور مصر امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور کوریا کے درمیان ڈجیٹل ادائیگی کے نظام کے انضمام پر معاہدہ

ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ ۲۴؍ گھنٹوں میں جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی تو خطے میں بحری اور فضائی سرگرمیوں میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال عالمی برادری کی نظریں اس اہم ڈیڈ لائن پر مرکوز ہیں، جہاں ایک جانب جنگ بندی برقرار رکھنے کی امید ہے، تو دوسری جانب کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK