امریکی سینیٹ نے برنی سینڈرز کی اسرائیل کو تقریباً۵۰۰؍ ملین ڈالر کی اسلحہ فروخت روکنے کی کوشش مسترد کردی، ایوان بالا نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو بم اور بکتر بند بلڈوزر کی منتقلی روکنے کی کوششوں سے اتفاق نہیں کیا۔
EPAPER
Updated: April 16, 2026, 4:06 PM IST | Washington
امریکی سینیٹ نے برنی سینڈرز کی اسرائیل کو تقریباً۵۰۰؍ ملین ڈالر کی اسلحہ فروخت روکنے کی کوشش مسترد کردی، ایوان بالا نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو بم اور بکتر بند بلڈوزر کی منتقلی روکنے کی کوششوں سے اتفاق نہیں کیا۔
مریکی کانگریس کے ایوان بالا (سینیٹ) کے ارکان نے اسرائیل کوایک ہزار پاؤنڈ کے بم اور بکتر بند بلڈوزر فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔امریکی سینیٹ نے سینیٹر برنی سینڈرز کی طرف سے پیش کردہ دو مشترکہ قراردادوں کو مسترد کر دیا ہے، جن کا مقصد اسرائیل کو مجوزہ امریکی اسلحہ فروخت میں سے تقریباً۵۰۰؍ ملین ڈالر کو روکنا تھا۔بدھ کو ووٹنگ کےدوران ایوان بالا نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو بم اور بکتر بند بلڈوزر کی منتقلی روکنے کی کوششوں سے اتفاق نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا چین پر ایران کو اسلحہ دینے کا الزام، چین کی تردید
۴۰؍ کے مقابلے ۵۹؍ ووٹوں سے، سینیٹ نے۲۹۶؍ ملین ڈالر کی بکتر بند بلڈوزر فروخت روکنے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔کئی ڈیموکریٹک سینیٹرز، جن میں رچ بلومینتھل، کرس کونز، کیتھرین کورٹیز مستو، جان فیٹرمین، کرسٹن گلیبرینڈ، جیکی روزن، اور اقلیتی لیڈرچک شومر شامل ہیں، نے ریپبلکن کے ساتھ مل کر اس اقدام کو ناکام بنانے کے لیے ووٹ دیا۔واضح رہے کہ امریکہ نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیل کو ۲۱ بلین ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔اس سے قبل سینڈرز جو آزاد امیدوار ہیں لیکن ڈیموکریٹس کے ساتھ بیٹھتے ہیںنے مخالفت میں دلائل پیش کئے، اور نوٹ کیا کہ جہاں یہ کوشش صرف۱۱؍ ووٹوں سے شروع ہوئی تھی، وہیں۴۷؍ میں سے۴۰؍ ڈیموکریٹک سینیٹرز نے بلڈوزر فروخت روکنے کے حق میں ووٹ دیا۔تاہم سینڈرز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ تبدیلی امریکی عوام کی مرضی کی عکاسی کرتی ہے، انہوں نے حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ۶۰؍ فیصد امریکی اسرائیل کو اسلحہ بھیجنے کے خلاف ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے ممکنہ امیدوار سمجھے جانے والے کسی بھی ڈیموکریٹک سینیٹر نے فروخت کے حق میں ووٹ نہیں دیا، جبکہ سینڈرز ان منتقلیوں کو چیلنج کرنے کے لیے کانگریس میں رسمی طریقہ کار استعمال کرتے رہتے ہیں۔
امریکی سینیٹ نے چوتھی بار ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی تجویز مسترد کر دی
اپنے بیان میں سینڈرز نے فروخت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ بلڈوزر وہ مشینیں ہیں جو مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں مکانات کو منہدم کرنے اور فلسطینی ریاست کو عملی طور پر ناممکن بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’’ امریکی عوام غیر قانونی، خوفناک اور توسیع پسندانہ جنگی پالیسیوں کوامداد دینا نہیں چاہتے۔انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں توسیع کی ایک مکمل جنگ چھڑ گئی ہے جس میں۲۰۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اگرچہ اکتوبر ۲۰۲۵ءمیں جنگ بندی ہو گئی تھی، لیکن اس کی خلاف ورزی اکثر ہوتی رہی ہیں۔