Updated: April 11, 2026, 6:06 PM IST
| Islamabad
ایران اور امریکہ میں جنگ بندی اور مذاکرات کے اعلان کے باوجود لبنان اور اسرائیل کے درمیان زمینی صورتحال کشیدہ ہے۔ اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، جنہیں خطے میں جاری بڑے تنازع کے خاتمے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
اسلام آباد (پاکستان) میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، جنہیں ۱۹۷۹ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوں گے۔ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا پہلا مرحلہ ’’بالواسطہ رابطوں‘‘ پر مشتمل ہے، جہاں دونوں فریق پاکستانی حکام کے ذریعے اپنے مؤقف کا تبادلہ کر رہے ہیں، جبکہ براہ راست ملاقات کا امکان بعد کے مراحل میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے کا انحصار امریکی مؤقف پر ہوگا۔ نائب صدر محمد رضا عارف کے مطابق، اگر مذاکرات ’’امریکہ فرسٹ‘‘ بنیاد پر ہوں تو پیش رفت ممکن ہے، بصورت دیگر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطہ ایک نازک دو ہفتہ جنگ بندی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، اور عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ مستقل امن کی طرف لے جائیں گے یا ایک نئے تصادم کی راہ ہموار کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں ایران جنگ بندی مذاکرات، امریکی افواج مشرق وسطیٰ روانہ
لبنان پر اسرائیلی حملے جاری
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا آغاز ۲۸؍ فروری کو اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں ایک وسیع علاقائی تنازع جنم لیا۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ توانائی، تجارت اور سلامتی کے عالمی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ اس وقت ہوئی جب اسرائیل نے، نومبر ۲۰۲۴ء کی جنگ بندی کے باوجود ۲؍ مارچ کو حزب اللہ کے سرحد پار حملے کے بعد جنوبی لبنان میں وسیع فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس مرحلے سے لبنان ایک بار پھر براہ راست تصادم کا میدان بن گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کا مغربی کنارے میں تشدد میں اضافے پر تحقیقات کا مطالبہ
حالیہ دنوں میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئیں۔ تاہم، زمینی حقائق اس سفارتی پیش رفت کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر سدون اور دارالحکومت بیروت کے اوپر کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ساؤنڈ بیریئر توڑا، جبکہ مارکابہ بنی حیان کے علاقے میں ایک بڑا دھماکہ بھی کیا گیا۔ اس کے جواب میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے کریات شمونہ کے قریب اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ جوابی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے، لیکن میدان جنگ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔