Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوام متحدہ کا مغربی کنارے میں تشدد میں اضافے پر تحقیقات کا مطالبہ

Updated: April 11, 2026, 3:58 PM IST | New York

اقوام متحدہ نے مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی آباد کاروں کے ذریعے کئے جارہے تشدد میں اضافے کی تحقیقات کا مطالبہ ،اور زور دیا کہ سرائیل کو بطور مقبوضہ طاقت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ نے جمعرات کو مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی آباد کاروںکی جانب سے تشدد میں اضافے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، اور زور دیا کہ اسرائیل کو بطور مقبوضہ طاقت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ترجمان اسٹیفن دوجارک نے صحافیوں کو بتایا کہ’’ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک ۵۸۰؍ سے زائد حملوں میں۱۹۰؍ سے زیادہ فلسطینی باشندوں کا جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔‘‘انہوں نے زور دیا کہ’’ شہریوں کے خلاف حملوں کی مکمل تحقیقات کی جائے اور تشدد کرنے والوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جوابدہ ٹھہرایا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پاکستانی وزیرِ دفاع نے اسرائیل کو سرطانی ریاست کہا، اسرائیل کی مذمت، پوسٹس حذف

واضح رہے کہ تحفظ کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے جارحانہ واقعات پیش آ رہے ہیں۔ دوجارک نے بتایا کہ بدھ کو ایک اسرائیلی مرکاوا ٹینک نے لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) کے لاجسٹک قافلے کو روکا، اپنی بندوق امن دستوں کی طرف کی اور مشین گن سے فائرنگ کی جس سے ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ یونیفل نے منگل کو کہا کہ گزشتہ ماہ لبنان میں ایک امن دستے کو مارنے والا پروجیکٹائل اسرائیلی فوجی ٹینک نے فائر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان پرغصہ نکالنے والے اسرائیل کی چوطرفہ مذمت

اس کے علاوہ انسانی بحران دیگر تنازعات تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ جس میں سوڈان کے، شمالی دارفور میں شادی کی تقریب پر ڈرون حملے میں کم از کم۳۰؍ شہری ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ دوجارک نے کہا، ’’ہم اس اور شہریوں کے خلاف تمام حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ شہریوں اور شہری اہداف کے خلاف ڈرون سے حملے ناقابل قبول ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ چاڈ میں۱۰؍ لاکھ سے زائد سوڈانی مہاجرین امداد کی کمی کے باعث بنیادی خدمات میں جان لیوا تخفیف کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے صرف۱۰؍ میں سے۴؍ مہاجرین کو امداد مل پا رہی ہے۔ساتھ ہی یمن کے بارے میں دوجارک نے کہا کہ ’’سیلاب کے ساتھ بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اور ضروریات بڑھ رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ۲۲؍ ملین سے زائد افراد، جن میں۱۰؍ ملین سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں، انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK