ناسک سے بھیجے جانے والی پیاز کے ۲۰۰؍ جبکہ جلگائوں کے کیلوں کے ۲۵۰؍ کنٹینر نوی ممبئی کے پورٹ پر جنگ رک جانے کے انتظار میں پڑے ہوئے ہیں
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 11:14 PM IST | Jalgaon
ناسک سے بھیجے جانے والی پیاز کے ۲۰۰؍ جبکہ جلگائوں کے کیلوں کے ۲۵۰؍ کنٹینر نوی ممبئی کے پورٹ پر جنگ رک جانے کے انتظار میں پڑے ہوئے ہیں
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے سبب مہاراشٹر سے بر آمد ہونے والی پیاز، انگور اور کیلوں کے فیصلوں کی بر آمد شدید بحران سے دوچار ہے۔ یاد رہے کہ ناسک سے پیاز اور انگور کی فصل خلیجی ممالک کی طرف جاتی ہے تو جلگائوں کے کیلے بھی بر آمد کئے جاتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی جلگائوں میں بننے والی چٹائی کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے جنہیں خلیجی ممالک بھیجا جاتا ہے۔
انگوراور پیاز سے لدے کنٹینر پورٹ پر پڑے ہیں
اطلاع کے مطابق ہزاروں ٹن پیازیں سیکڑوں کنٹینروں میں بھری ہوئی پڑی ہیں۔اسے ناسک سے ممبئی کے جواہر لال نہرو پورٹ ٹرسٹ تک پہنچادیا گیا لیکن وہا ں سے خلیجی ملکوں خصوصا دُبئی بھیجنا فی الحال ممکن نہیں ہو پا رہاہے۔پیاز ایکسپورٹ کے کاروبار سے منسلک تاجروں میں اضطراب ہے۔ خدشہ ہے کہ بر وقت ایکسپورٹ رُوٹ شروع نہیں ہوسکا تو ہزاروں ٹن پیاز خراب ہو جائے گی۔انصاری نسیم احمد (ایکسپورٹر) نے کہا کہ پیاز کی فروخت کے اہم اور بڑے مراکز خلیجی ممالک میں ہیں۔ہندوستان سے مال دُبئی اور اس کے بعد دیگر ممالک میں پہنچایا جاتا ہے۔جنگی حالات میں پیاز کی مانگ برقرار ہے بلکہ زائد ہے لیکن اسے ایکسپورٹ کرنے کے راستے بند ہیں۔وکاس سنگھ (ایکسپورٹرس ایسوسی ایشن وائس پریسیڈنٹ) نے کہا کہ اِس وقت جواہر لال نہرو پورٹ ٹرسٹ ممبئی بندرگاہ پر ۲؍سو کنٹینر پیاز اور ۳۵؍کنٹینر انگور سے لدے کھڑے ہیں۔بحری راستے سے انہیں بھیجنا ہے لیکن جنگی صورتحال کے سبب سمندری راستے بھی محفوظ نہیں ۔واضح رہے کہ ناسک اور مالیگاؤں کی پیاز منڈیاں اس کاروبار میں سر فہرست ہیں۔
جلگائوں کے کیلوں کی بر آمد بھی رک گئی ہے
ٹھیک اسی طرح نوی ممبئی کے جے این پی اے پورٹ سے خلیجی ممالک کو جلگائوں ضلع کےکیلے بھیجے جاتے ہیں کیلوں سے بھرے تقربیا ً ۲۵۰؍ کنٹینر ز یہاں پھنسے ہوئے ہیں ۔ان میں سے ۱۰۰؍ کنٹینر صرف جلگائوں ضلع کے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ یہ کیلے پورٹ پر ہی خراب نہ ہو جائیں۔ ضلع سے کیلے کی کل برآمدات کا ۶۰ ؍ فیصد عرب ممالک کیلئے ہوتا ہے ۔بحری نقل و حمل میں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے شپنگ کمپنیوں نے ۳ ؍ مرتبہ خلیج میں سامان پہنچانے سے انکار کر دیا ہے ۔فی الحال رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جاری ہے ۔اس دوران عرب ممالک میں کیلے کی بہت زیادہ مانگ ہو تی ہے مگر بر آمدات ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں ۔ مقامی بیوپاریوں کے مطابق ا ب پہلے بھیجئے گئے کنٹینر س کی رقم ملنا مشکل ہو گیا ہے ۔کیونکہ کچھ کنٹینرز ایران نہیں پہنچ رہے ہیں۔جنگ شروع ہونے کی وجہ سے وہ واپسی کے راستے پر ہیں ۔ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو برآمدات کو مقامی مارکیٹ میں اتارنا ہوگا۔ اس کی وجہ سےکیلے کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ آسکتی ہے ۔
چٹائی کی پیداوار کے حوالے سے صنعتی منصوبہ بندی تباہ
جلگائوں کے انڈسٹریل اسٹیٹ ایریا میں مختلف کمپنیوں کے تقریباً ۲۰۰؍ یونٹ ہیں جو پلاسٹک کی چٹائیاں تیار کرتے ہیں ۔ یہ چٹائیاں کم و بیش ۲۵؍ ممالک کو ایکسپورٹ کی جاتی ہیں جس کے ذریعے ملک کو سالانہ سو کروڑ روپے زرمبادلہ ملتا ہے ۔ پلاسٹک کی چٹائی کے بڑے بیوپاری خلیجی ممالک میں ہیں ۔ مگر جنگ کے سبب یہ کاروبار بھی فی الحال رکا ہوا ہے۔
اس سلسلے میں جلگائوں چٹائی مینو فیکچررس ایسوسی ایشن کے صدر مہندر رائسونی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ مینو فیکچررس کومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔پلاسٹک کی چٹائی بہت ہلکا سامان ہے جسے نقصان پہنچ سکتا ہے ۔اسے ذخیرہ کرنے کیلئے جگہ کا بڑا مسئلہ ہے۔ بیوپاری اس بات سے پریشان ہیں کہ اب تیار مال پڑا ہے اور نیا(مقامی) آرڈر آجائے تو اسے تیار کرکے کہاں رکھا جائے ؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ یہ بات ابھی غیر یقینی ہے کہ ایران ۔اسرائیل جنگ کب ختم ہو گی ۔تیار شدہ چٹائیاں کروڑوں روپےکی ہیں اور بیوپاریوں کی خطیر رقم اس میں لگی ہوئی ہے ۔مزید یہ بھی کہ نئی چٹائیاں تیار کی جائیں یا نہیں ۔ اگر ۸تا ۱۰؍ دنوں میں جنگ نہ رُکی تو پیدوار روکنی پڑے گی۔‘‘ پلاسٹک کی چٹائی کی ایک بڑ ی تعداد یمن ،قطر ،دبئی ،سعودی عرب ،ابو ظہبی کو برآمد کی جاتی ہے ۔ان ممالک کی مانگ کے مطابق جلگائوں سے ہر ماہ ۲۰ تا ۲۵؍ کنٹینر پلاسٹک کی چٹائیاں بھیجی جاتی ہیں ۔
یاد رہے کہ گزشتہ ۲۸؍ فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا تھا اس کے بعد سے وہاں جنگ جاری ہے ، اس دوران فضائی اور بحری دونوں ہی راستے بند ہیں جس کی وجہ سے خلیجی ممالک میں برآمدات رکی ہوئی ہیں۔