ٹورنامنٹ کے آغاز سے ٹھیک پہلے گرما گرم سیاسی ماحول، ٹکٹوں کی آسمان چھوتی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات نے اس میگا ایونٹ کو تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 10, 2026, 4:07 PM IST | New York
ٹورنامنٹ کے آغاز سے ٹھیک پہلے گرما گرم سیاسی ماحول، ٹکٹوں کی آسمان چھوتی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات نے اس میگا ایونٹ کو تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا فٹبال میلہ، فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء، جمعرات (کل) سے میکسیکو، امریکہ اور کنیڈا کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ تاہم، ٹورنامنٹ کے آغاز سے ٹھیک پہلے گرما گرم سیاسی ماحول، ٹکٹوں کی آسمان چھوتی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات نے اس میگا ایونٹ کو تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
فٹبال تاریخ کا یہ سب سے بڑا اور پیچیدہ ترین ٹورنامنٹ ہے جس میں ریکارڈ ۴۸؍ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ افتتاح میکسیکو سٹی کے تاریخی ایسٹادیو ازٹیکا اسٹیڈیم میں میزبان میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ سے ہوگا، جبکہ فائنل ۱۹؍ جولائی کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا اور اس کے صدر جانی انفینٹینو کو ٹکٹوں کی ناقابلِ یقین حد تک زیادہ قیمتوں پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جہاں ۲۰۲۲ء کے ورلڈ کپ فائنل کے سب سے مہنگے ٹکٹ کی قیمت ۱۶۰۰؍ ڈالر تھی، وہیں اس بار فائنل کے وی آئی پی ٹکٹ کی قیمت۳۲۹۷۰؍ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ان قیمتوں پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ لاس اینجلس میں امریکہ اور پیراگوئے کے درمیان ہونے والے افتتاحی میچ کے ایک ہزار ڈالر کے ٹکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ سے کہا’’سچ بتاؤں تو اتنی خطیر رقم میں بھی ادا نہ کرتا۔‘‘انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کی سخت امیگریشن پالیسیاں ورلڈ کپ کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں۔
صومالیہ کی تاریخ کے پہلے ورلڈ کپ ریفری، عمر آرتان کو میامی ایئرپورٹ پر امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے بعد فیفا نے مجبوری میں انہیں اپنے آفیشلز کی لسٹ سے نکال دیا۔ فروری میں ایران پر ہونے والے امریکہ-اسرائیل فضائی حملوں کے بعد سیاسی تناؤ عروج پر ہے۔ ایرانی ٹیم نے اپنا بیس کیمپ امریکہ (ایریزونا) سے میکسیکو کے شہر تیہوانا منتقل کر لیا ہے۔ مزید برآں، امریکہ نے ایرانی ٹیم کے ۱۵؍ انتظامی اراکین کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے، جسے ایران نے متعصبانہ رویہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:`فلم ’’الفا‘‘کا طاقتور ٹیزر جاری، عالیہ بھٹ نے ایکشن اوتار سے مداحوں کو حیران کر دیا
عالمی سطح پر مداحوں کی نظریں تین بڑے سوالات پر ہیں۔کیا ۳۸؍ سالہ لیونل میسی ارجنٹائنا کو لگاتار دوسرا ٹائٹل جتا کر خود کو تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی ثابت کر پائیں گے؟کیا ان کے حریف ۴۱؍ سالہ کرسٹیانو رونالڈو بڑھتی عمر کو شکست دے کر پرتگال کو پہلا ورلڈ کپ جتا سکیں گے؟کیا ہیری کین کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم اپنا ۶۰؍ سالہ انتظار ختم کر کے دوسری بار ٹرافی اٹھا پائے گی؟
یہ بھی پڑھئے:انجری کے بعد میسی کی شاندار واپسی، ارجنٹائنا نے آئس لینڈ کو ۰۔۳؍گول سے ہرا دیا
۳۲؍ کے بجائے ۴۸؍ ٹیمیں ہونے کی وجہ سے پہلے راؤنڈ میں ۷۲؍ میچز کھیلے جائیں گے، جس میں سے صرف ۱۲؍ ٹیمیں باہر ہوں گی اور۳۲؍ ٹیمیں اگلے راؤنڈ (ناٹ آؤٹ) میں پہنچیں گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ابتدائی میچز کا سسپنس کم ہو جائے گا۔ شدید گرمی اور حبس کے اثرات سے کھلاڑیوں کو بچانے کے لیے ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ہر میچ کے دونوں ہاف کے درمیان کولنگ بریک دی جائے گی۔