Updated: June 10, 2026, 5:03 PM IST
| Washington/Tehran
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی حملوں کا براہِ راست جواب دیتے ہوئے امریکہ کو وارننگ دی کہ ”اگر محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارے علاقے سے نکل جاؤ۔“ انہوں نے کہا کہ میدانِ جنگ میں ”شکستوں“ کے باوجود امریکہ نے ایران کے عزم کا امتحان لینے کا انتخاب کیا ہے۔
عراقچی اور ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کے اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا ذمہ دار تہران کو ٹھہرایا جس کے بعد امریکہ نے بدھ کو ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں گشت کرنے والے امریکی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس حملے کا جواب دے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی کہ یہ حملے صدر ٹرمپ کے براہِ راست حکم پر امریکی وقت کے مطابق شام ۵ بجے شروع ہوئے۔ انہوں نے اس آپریشن کو علاقائی پانیوں میں امریکی افواج اور بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کا ”متناسب جواب“ قرار دیا۔ سینٹ کوم کی افواج نے امریکی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں سے داغے گئے گائیڈڈ ہتھیاروں کے ذریعے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام، گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن اور نگرانی کرنے والے رڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے ایران کے اندر مجموعی طور پر ۲۰ اہداف پر حملے کئے جن میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور بھی شامل ہے۔ یہ حملے جنوبی صوبہ ہرمزگان کے علاقوں جاسک، سیریک اور جزیرہ قشم میں کئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے جنگی نامہ نگاری، میزائلوں کے فوجی مقامات پرگرنے کی اطلاع پر روک لگائی
رپورٹس کے مطابق، ایران نے بندر عباس، قشم اور سیریک میں فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس) کو فعال کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے امریکی حملوں کے نتیجے میں جنوبی صوبہ ہرمزگان کے علاقوں جزیرہ قشم، سیریک، میناب اور جاسک میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
’اگر محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارے علاقے سے نکل جاؤ‘؛ ایرانی وزیرِ خارجہ کا امریکہ کو انتباہ
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی حملوں کا براہِ راست جواب دیتے ہوئے امریکہ کو وارننگ دی کہ ”اگر محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارے علاقے سے نکل جاؤ۔“ انہوں نے کہا کہ میدانِ جنگ میں ”شکستوں“ کے باوجود امریکہ نے ایران کے عزم کا امتحان لینے کا انتخاب کیا ہے۔ عراقچی نے لکھا کہ ”ہماری طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا خطرے کو بے جواب نہیں چھوڑیں گی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”خلیج فارس کی تاریخ میں دراندازی کرنے والے بیرونی عناصر کے بھیانک انجام کے کئی ابواب موجود ہیں۔“
ایران کا بحرین میں ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز سمیت ۲۱ امریکی فوجی اہداف پر حملہ
امریکی حملوں کے جواب میں، ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (IRGC) نے کویت، بحرین اور اردن میں ۲۱ امریکی فوجی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے خاص طور پر بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا اور کویت میں علی السالم ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا۔ کویتی فوج نے تصدیق کی کہ اس کے فضائی دفاعی نیٹ ورک نے دشمن کے فضائی اہداف کا مقابلہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران سے ۲؍سے ۳؍دن میں معاہدہ طے پا سکتاہے
اس کے علاوہ، پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں الازرق بیس پر حملہ کرنے کیلئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا، جس میں چار مخصوص علاقوں، ایف-۳۵ لڑاکا طیاروں کے ہینگرز اور ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور ان کا ملبہ نیچے گرا، جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے جنوبی صوبہ بوشہر کے اوپر ایک امریکی ایم کیو-۹ ریپر (MQ-9 Reaper) ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ تقریباً تمام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روک دیا گیا اور اس وقت تک کسی امریکی اہلکار کو نقصان پہنچنے یا امریکی ٹھکانوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ کی۱۲؍ فیصد آبادی شہید یا لاپتہ ہو چکی ہے ‘‘
ایران کو آگے بڑھنے سے پہلے ”صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت“ ہوگی: ایرانی وزارتِ خارجہ کا بیان
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج بیان دیا ہے کہ اسلامی ملک کو امن مذاکرات کے عمل میں آگے بڑھنے سے پہلے راتوں رات ہونے والے امریکی حملوں کے بعد ”صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت“ ہوگی۔ انہوں نے سخت گیر نظریات کے حامل ’اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”سفارت کاری خلاء میں نہیں ہوتی۔“
انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ”تضادات سے بھرپور پیغامات، اپنے مواقف اور مطالبات میں بار بار تبدیلیوں اور تہران کے ساتھ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں“ کے ذریعے سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ لبنان میں اپنی تیز تر فوجی کارروائیوں کے ذریعے ”اس عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ایٹمی ہتھیاروں پر ریکارڈ خرچ؛ امریکہ، چین، روس ایٹمی دوڑ میں سب سے آگے، ہندوستان کےاخراجات میں اضافہ
’اب ایران کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی‘: ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے ایرانی حملوں کے بعد اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران نے ایسے معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کیلئے ”بہت زیادہ وقت“ لگا دیا ”جو ان کیلئے بہترین ثابت ہو سکتا تھا“ اور اب انہیں ”اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔“
"ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ”ایران صرف باتیں کرتا ہے اور عملی طور پر کچھ نہیں کرتا۔“ انہوں نے اسلامی جمہوریہ کی فوج کو ”شدید افراتفری کا شکار“ قرار دیا۔ انہوں نے مزید لکھا، ”مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش ختم ہوچکا ہے!!!“
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود لبنان میں اسرائیلی حملے
ایران کا خلیجی ممالک کو پیغام؛ امریکی اور اسرائیلی حملوں کو روکیں ورنہ قانونی ذمہ داری قبول کریں
ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے دن اپنے خلیجی پڑوسیوں کو براہِ راست انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کیلئے اپنی سرزمین یا تنصیبات استعمال کرنے سے روکنا ان کی ”قانونی اور اخلاقی ذمہ داری“ ہے۔ وزارت نے خاص طور پر خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں پر واقع ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی فوج اور اسرائیل کو اپنی سرزمین سے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی معاندانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی، تنظیم، نفاذ یا حمایت کرنے سے روکیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوابی کارروائیوں کا سلسلہ دن بھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔