Updated: June 10, 2026, 7:03 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو ابو ظہبی کے راستے ۳؍ ارب ڈالرکی مالیت کے ایرانی اثاثے منتقل کیے گئے ہیںاور اسرائیل پر حملہ روکنے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم، کسی سرکاری سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، ایران کو ابوظہبی کے راستے۳؍ ارب ڈالر کی مالیت کے ایرانی اثاثے منتقل کیے گئے ہیں، تاکہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کم کی جا سکے۔ یہ رپورٹ ابھی تک غیر مصدقہ ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ رقم ایک نجی بوئنگ۷۳۷؍ کے ذریعے تہران بھیجی گئی، اور اس پیغام کے ساتھ اسرائیل پر حملہ روکنے کی درخواست بھی تھی۔ تاہم، کسی سرکاری سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، یہ اطلاعات قطری ثالثوں کے ذریعے پہنچائی گئیں، اور اس کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی تھی کہ اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں روک دے گا۔ یہ سب کچھ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان نازک جنگ بندی برقرار ہے۔ادھر ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر اور ایم کیو ریپر ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکے بھی سنے گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کو خطے سے نکل جانے کی تنبیہ کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے حکم پر امریکہ نے ایران پر حملے کئے؛ ایران نے جواب میں ۲۱ امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا
واضح رہے کہ ۲۸؍ مئی کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کا آغاز کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں ،تنصیبات اور اسرائیل کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنایا۔ اس سے قبل ایران نے خطے کے تمام ممالک کو کھلی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس ملک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کیلئے استعمال ہوگی، اس کو نشانہ بنایا جائےگا۔ تاہم امریکہ نے کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عربیہ، قطر میں موجود اپنی فوجی اڈوں کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے شہروں، اور تیل کی تنصیبات پر حملے کئے، جس کے جواب میں ایران نے ان تمام ملکوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے جنگی نامہ نگاری، میزائلوں کے فوجی مقامات پرگرنے کی اطلاع پر روک لگائی
بعد ازاں پاکستان، ترکی اور قطر کی کوششوں سے ایران اور امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم مذاکرات میں تعطل برقرار ہے، جس کی وجہ ایرانی شرائط ہیں، جنہیں امریکہ نے مسترد کردیا ، انہیں شرائط میں ۲۴؍ بلین ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کو جاری کرنا بھی تھا۔ اس کے بر خلاف امریکہ نے ان اثاثوں سے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان کی تلافی کا فیصلہ کیا ہے۔