Updated: March 10, 2026, 7:05 PM IST
| London
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگی دباؤ جاری رہا تو تیل کی قیمتیں ۲۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ ادھر امریکی فوجی کارروائیوں پر صرف دس دن میں ۱۰؍ بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتیں ۵ء۲۸؍ فیصد بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران جنگ عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور مہنگائی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
(۱) اگر تیل کی قیمتیں ۲۰۰ ڈالر فی بیرل برداشت کر سکتے ہیں تو یہ کھیل جاری رکھیں: پاسداران انقلاب
ایران کے پاسداران انقلاب نے عالمی طاقتوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو عالمی توانائی منڈیوں کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا: ’’اگر آپ تیل کی قیمتیں ۲۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے زیادہ برداشت کر سکتے ہیں تو یہ کھیل جاری رکھیں۔‘‘ اس بیان کے بعد عالمی تیل منڈی میں شدید ردعمل دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل جو پہلے تقریباً ۷۲؍ ڈالر فی بیرل تھا، ایک ہی سیشن میں ۲۵؍ فیصد سے زیادہ بڑھ کر ۱۱۰؍ ڈالر سے اوپر پہنچ گیا۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج ہرمز کے راستے سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی فوجی کشیدگی سے عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان دراصل ایک اسٹریٹجک پیغام تھا جس کا مقصد مغربی ممالک کو یہ باور کرانا تھا کہ جنگ کے معاشی اثرات پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ۹؍ کروڑ سے زائد مسافر پروازوں کی منسوخی سے متاثر، خلیج میں ہوا بازی کا شعبہ درہم برہم
(۲) ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں صرف ۱۰؍ دنوں میں ۱۰؍ بلین ڈالر خرچ
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر بھاری مالی لاگت سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف دس دنوں میں امریکی آپریشنز پر ۱۰؍ بلین ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان اخراجات میں فضائی حملے، میزائل دفاعی نظام، ڈرون آپریشنز اور بحری تعیناتیاں شامل ہیں۔ جدید ہتھیاروں کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے؛ بعض میزائلوں اور انٹرسیپٹرز کی قیمت فی یونٹ لاکھوں یا ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رفتار سے اخراجات جاری رہے تو جنگ امریکی بجٹ پر بڑا دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو سکتے ہیں جس کے باعث دفاعی صنعت کو پیداوار بڑھانی پڑے گی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق جدید جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے معاشی اثرات بھی وسیع ہوتے ہیں۔
(۳) یورپ میں گیس کی قیمتوں میں ۵ء۲۸؍ فیصد اضافہ
ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں ۵ء۲۸؍ فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یورپ پہلے ہی روس یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں ایران تنازع نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل ہوئی تو گیس اور تیل دونوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: عراق میں امریکی اڈوں پر مسلح تنظیموں کے حملے
(۴) ہنگری نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ روسی توانائی پر پابندیاں ختم کرے
یورپ میں توانائی بحران کے خدشات بڑھنے کے بعد ہنگری نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ روسی توانائی پر عائد پابندیاں ختم کرے۔ ہنگری کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اگر روسی توانائی تک رسائی محدود رہی تو یورپ کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہنگری نے دلیل دی کہ توانائی کی فراہمی کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ اس مطالبے نے یورپی یونین کے اندر اختلافات کو نمایاں کر دیا کیونکہ کچھ ممالک پابندیوں کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں جبکہ بعض انہیں نرم کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
(۵) کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے تنازع سے برطانیہ میں معیار زندگی متاثر ہوگا
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا کہ ایران تنازع کے عالمی معاشی اثرات برطانیہ میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام شہریوں کے معیار زندگی کو متاثر کرے گا۔ اسٹارمر کے مطابق اگر جنگ طویل ہوئی تو مہنگائی میں اضافہ اور معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی لیڈرؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں۔ ان کے مطابق عالمی معیشت پہلے ہی متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے اور ایک نئی بڑی جنگ صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
(۶) ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز بند کیا گیا تو ۲۰؍ گنا سخت جواب دیا جائے گا
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ اس کا ’’۲۰؍ گنا زیادہ سخت جواب‘‘ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اسے بند کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی اس سمندری راستے کو ہر صورت کھلا رکھنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس راستے کی سلامتی عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم تزویراتی مسئلہ بن چکی ہے۔