اسرائیل نے ایران کشیدگی کا حوالہ دے کر رمضان میں مسلمانوں کے لیے مسجد اقصیٰ بند کر دی،فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کے اس قدم نے ۱۹۶۷ء کے بعد سے قائم تاریخی حیثیت ختم کردی۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 5:05 PM IST | Jerusalem
اسرائیل نے ایران کشیدگی کا حوالہ دے کر رمضان میں مسلمانوں کے لیے مسجد اقصیٰ بند کر دی،فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کے اس قدم نے ۱۹۶۷ء کے بعد سے قائم تاریخی حیثیت ختم کردی۔
اسرائیلی حکام نے۲۸؍ فروری کو مسجد اقصیٰ کو بند کر دیا،اس اقدام کا آغاز رمضان المبارک کے پہلے تراویح کی نماز کو روکنے سےہوا۔ فلسطینی حکام کے مطابق اس فیصلے کے ساتھ اسرائیل نے۱۹۶۷ء کے بعد سے مقدس مقامات کی قا ئم حیثیت کو عملاً ختم کر دیا ہے۔صہیونی حکام نے اس بندش کی وجہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا ہے۔ گورنریٹ یروشلم کی رپورٹ کے مطابق، فروری کے مہینے میں مسجد اقصیٰ میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پیش قدمی کی گئی۔ اس دوران تقریباً ۵؍ ہزار یہودی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، جبکہ۸۶۳۷؍ افراد سیاحوں کے بھیس میں داخل ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی قانون سازوں کا انتباہ، اسرائیل ایران جنگ کو بطور ڈھال استعمال کرسکتا ہے
عرب رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسیز نے ۱۰۰؍ سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا، جن میں خواتین، بچے اور صحافی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ۴۰۰؍ سے زائد یروشلم کے باشندوں کو مسجد اقصیٰ اور پرانے شہر میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔گورنریٹ یروشلم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صرف سیکیورٹی اقدامات نہیں ہیں بلکہ ایک منظم پالیسی ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا اور شہر کی مذہبی و آبادیاتی نوعیت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس دوران یہودی آباد کاروں نے پولیس کی حفاظت میں مسجد کے صحن میں تلمودی رسومات بھی ادا کیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو مسجد اقصی سے دور رکھنے کے اقدامات کرتا رہتا ہے، ان میں نماز جمہ کیلئے مسجد میں داخلے کیلئے اجازت نامے جاری کرنا، مسجد میں داخلے کو محدود کرنا،اس کےعلاوہ مردوں اور عورتوں کیلئے عمر کی قید لگا نا شامل ہے۔ دوسری جانب مسجد جبراً داخل ہونے والے یہودی آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔اور اب ایران جنگ کا بہانہ بناکر انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے کلی طور پر مسجد ہی بند کردی۔