Updated: March 05, 2026, 10:21 PM IST
| Brussels
یورپی قانون سازوں نے فلسطین پر فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران جنگ کو ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے پارلیمنٹ کی دوہرے معیار کی پالیسی پر تنقید کی ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے پر زور دیا۔
یورپی پارلیمنٹ کے اراکین (ایم ای پیز) نے بدھ کو یورپی پارلیمنٹ کے صدر اور سیاسی گروپوں کے لیڈروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اگلے اجلاس میں فلسطین پر فوری بحث کا شیڈول بنائیں، اور خبردار کیا کہ اسرائیل علاقائی تنازعات کو مزید قبضے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔فلسطین کے ساتھ تعلقات برائے وفد کی سربراہ اور بائیں بازو کے گروپ کی رکن لن بائلن نے مختلف سیاسی گروپوں کے تین قانون سازوں کے ساتھ برسلز میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی فوری صورتحال اور یورپی پارلیمنٹ میں بحث کی کمی پر ایک پریس کانفرنس کی۔
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ میں جنگ کے درمیان یوکرین کو نہیں بھولنا چاہئے: کایا کلاس
بائلن نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر روشنی ڈالی، اور زور دے کر کہا کہ جیسے جیسے اسرائیل اور امریکہ ایران پر حملہ کر رہے ہیں، اسرائیل اسے فلسطینی سرزمین پر اپنے قبضے اور فلسطینی عوام کے خلاف اپنے نظامِ نسل پرستی کو بڑھانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرے گا۔بائلن نے مغربی کنارے میں جاری غیر قانونی بستیوں کی توسیع، اسرائیلی ریاست کے حمایت یافتہ یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، اور اسرائیل میں قانون سازی کی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا جو فلسطینی اراضی کے حقوق کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔انہوں نے یورپی یونین-اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے کی معطلی اور دو طرفہ اسلحے کی پابندی سمیت متعدد اقدامات پر غور کرنے پر زور دیا، اور یورپی یونین کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا۔
تمام سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے پارلیمانی کارروائی کے مطالبے کی حمایت کی۔پروگریسو الائنس آف سوشلسٹ اینڈ ڈیموکریٹس کی اطالوی قانون ساز سیسیلیا سٹراڈا نے زور دے کر کہا کہ اگر یورپی کمیشن کارروائی کرنے سے انکار کرتا ہےتو پارلیمنٹ کو دباؤ کی سطح بڑھانی چاہیے ۔انہوں نے الحاق کے منصوبوں، اسرائیلی پارلیمنٹ میں زیر بحث سزائے موت کے بل، اور غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا، ہم کمیشن کے نگہبان ہیں۔ اگر ہم کمیشن کے نگہبان کے طور پر اپنا کردار ترک کر دیتے ہیں، تو ہم بطور پارلیمان اپنے مشن سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور اپنے ووٹرز کو ناکام بنا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ اسرائیل جنگ: حملے، ردعمل اور عالمی اثرات ، تازہ اَپ ڈیٹس
بعد ازاں رینیو گروپ کے آئرش ایم ای پی بیری اینڈریوز نے گزشتہ ڈھائی سالوں میں غزہ کی صورتحال کو دہائیوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کی بدترین مثال قرار دیا، اور یورپی قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ مشکلات کے باوجود اس مسئلے کو مرکزی حیثیت میں رکھیں۔گرینز گروپ کی ہسپانوی قانون ساز انا مرانڈا پاز نے غزہ تک انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا اور بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے اور انسانی حقوق کے لیے یورپی یونین کے عزم کو ظاہر کرنے کے لیے یورپی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر بحث کا مطالبہ کیا۔پاز نے یورپی پارلیمنٹ کے `مختلف معیارات پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ہمیں گزشتہ ڈھائی برسوں میں کبھی بھی ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، اورنہ ہی ۸۰؍ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جو اسرائیل کے ہاتھوں شہید کئے گئے ۔