Updated: March 28, 2026, 8:04 PM IST
| Tokyo
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے خلاف عالمی سطح پر ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ یورپی اور ترک قیادت نے بھی جنگ کو خطرناک اور ’’غلط‘‘ قرار دیا۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے خلاف عالمی عوامی اور سیاسی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ایران جنگ کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
(۱) ٹوکیو میں ہزاروں افراد کا احتجاج، پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کے باہر جمع ہو کر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ شرکاء نے نعرے لگائے کہ’’جنگ بند کرو‘‘ اور ’’امن قائم کرو۔‘‘ رپورٹس کے مطابق مظاہرہ پرامن رہا لیکن اس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ یہ احتجاج ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے خلاف عوامی ردعمل ایشیا تک پھیل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہزاروں زخمی، درجنوں ہلاک، ایران جنگ کا انسانی بحران مزید سنگین
(۲) ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا بیان، ’’یہ جنگ بڑی غلطی ہے‘‘
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایران جنگ کو ’’ایک بڑی غلطی‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرناک ہے۔‘‘سانچیز نے جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل پر زور دیا۔ان کا بیان یورپی سطح پر بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ میں بھی جنگ کے خلاف سیاسی مخالفت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیٹو چھوڑنے کی دھمکی، ایران کو ’بدمعاش‘ قراردیا، ہرمز پر نیا تنازع
(۳) اردگان کا بیان، ’’یہ بے معنی جنگ پوری انسانیت کو نقصان پہنچا رہی ہے‘‘
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایران جنگ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’’یہ بے معنی جنگ پوری انسانیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے نتائج عالمی سطح پر تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اردگان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ فوری طور پر کشیدگی کم کی جائے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مسلم دنیا کی بڑی قیادت بھی جنگ کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔