Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: فریقوں کے ایک دوسرے پر ہزاروں حملے، جنگ بندی کی کوششیں تیز

Updated: March 12, 2026, 5:04 PM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے اندر ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے جواب دیا ہے۔ اس دوران امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ممکنہ ایرانی ڈرون حملوں کے خدشے سے متعلق خبردار کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا اعادہ کیا ہے اور تعلیمی ادارے پر حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei and US President Donald Trump. Photo: X
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اورامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

(۱) ایرانی ڈرونز کیلیفورنیا پر حملے کرسکتے ہیں: ایف بی آئی
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر امریکی حملوں کے جواب میں کیلیفورنیا میں اچانک ڈرون حملے کر سکتا ہے۔ ایک سیکوریٹی بلیٹن میں بتایا گیا کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق ایران مبینہ طور پر سمندر میں موجود کسی جہاز سے بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے کے وقت، مقام یا طریقہ کار کے بارے میں کوئی واضح معلومات موجود نہیں۔ امریکی صدر نے اس خدشے کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی سرزمین پر فوری حملے کا اندیشہ نہیں، جبکہ کیلیفورنیا کے حکام نے بھی کسی فوری خطرے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

یہ بھی پرھئے: ’’ موسیٰ ؑ اورہارون ؑ کے خدا نے اس دور کےفرعونوں پر غضب نازل کیا ہے‘‘

(۲) اسرائیل نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں ۳۴۰۰؍ اہداف پر ۶؍ ہزار سے زائد فضائی حملے کئے
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے مختلف حصوں میں تقریباً ۳۴۰۰؍ اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ مجموعی طور پر چھ ہزار سے زائد فضائی حملے کئے گئے ہیں۔ ان حملوں میں میزائل تنصیبات، فوجی اڈوں، ڈرون مراکز اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا اور اس کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا ہے۔ دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

(۳) ایران میں ۵۵۰۰؍ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے: امریکہ
امریکی فوجی حکام کے مطابق جاری فوجی مہم کے دوران ایران کے اندر اب تک ۵۵۰۰؍ سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان کارروائیوں میں فوجی اڈے، میزائل لانچنگ سائٹس اور بحری تنصیبات شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کو محفوظ بنانا ہے۔ ایران نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تہران بینک حملے کے بعد ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو سخت کارروائی کی دھمکی

(۴) ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں کم از کم ۱۷ امریکی سائٹس کو نقصان پہنچا
رپورٹس کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے مشرق وسطیٰ میں کم از کم سترہ امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ حملے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں کئے گئے۔ اگرچہ کئی حملوں کو دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا لیکن کچھ مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK