Inquilab Logo Happiest Places to Work

تہران: پاکستانی سفارتخانے کے قریب دھماکے، پاکستان کی سخت وارننگ

Updated: March 27, 2026, 6:17 PM IST | Tehran

ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب مبینہ اسرائیل امریکہ حملوں کے بعد پاکستان اسٹریٹجک فورم نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی سفارت کاروں کو نقصان پہنچا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پاکستان خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اگرچہ پاکستانی سفیر محفوظ رہے، تاہم دھماکوں سے سفارت خانے کے اطراف عمارتیں متاثر ہوئیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جمعرات کو تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب مبینہ اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد صورتحال نے نیا سفارتی رخ اختیار کر لیا ہے۔ حملوں کی اطلاعات کے بعد پاکستان سے وابستہ Pakistan Strategic Forum نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر دنیا میں کہیں بھی پاکستانی سفارت کاروں کو نقصان پہنچا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’اسرائیل کو یاد رکھنا چاہیے، پاکستان قطر نہیں ہے۔ اگر ہمارے سفارت کاروں کو دنیا میں کہیں بھی کوئی نقصان پہنچا تو ہم ان پر جہنم کا دروازہ کھول دیں گے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے مند ب پرحملہ کی دھمکی

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اطلاعات کے مطابق وسطی تہران میں تازہ فضائی حملے کیے گئے، جو پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ اور سفارت خانے کے قریب ہوئے۔ اگرچہ پاکستانی سفیر محفوظ رہے، تاہم دھماکوں کی شدت سے سفارت خانے کے کمپاؤنڈ اور قریبی عمارتیں لرز اٹھیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں پاکستان بیک وقت ایک حساس سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوجیوں کا ورک فرام ہوم، خلیجی اڈے شدید متاثر

پاکستانی قیادت کی جانب سے بھی اس حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کوکہا کہ اسلام آباد ’’بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات‘‘ کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ماضی میں بھی واشنگٹن نے تہران کے ساتھ رابطوں کے لیے کئی مواقع پر پاکستان کو ایک چینل کے طور پر استعمال کیا ہے، جس سے اسلام آباد کی اسٹریٹجک اہمیت واضح ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ حملوں نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں سفارتی تناؤ کو بڑھا دیا ہے، اور اس بات کے خدشات کو تقویت دی ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی توانائی، سلامتی اور سفارتی توازن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK