Updated: October 02, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
یہ پہلا موقع ہے جب ٹرمپ نے ایران جنگ کی ایک وجہ کے طور پر منشیات کا حوالہ دیا ہے، اگرچہ وہ ماضی میں دیگر مقامات پر فوجی کارروائیوں کیلئے اسی طرح کے جواز استعمال کر چکے ہیں۔ مشرقی بحر الکاہل اور کیریبین میں جہازوں پر حملے اور وینزویلا کے اُس وقت کے صدر نکولس مادورو کو جنوری میں اغواء کئے جانے کے بعد انہوں نے یہی جواز پیش کیا تھا۔ مادورو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے شروع کرنے کے پیچھے نئی وجہ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس تنازع کا آغاز جزوی طور پر اس لئے کیا گیا تھا کیونکہ تہران ”منشیات بنا رہا تھا۔“ ٹرمپ طویل عرصے سے اس مؤقف پر قائم رہے ہیں کہ ایران کے خلاف اس جنگ کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔ وہ اس سے قبل رواں سال کے شروع میں ملک میں ہونے والے مظاہروں کے بعد وہاں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔
جمعرات کے روز ڈیورانٹ، اوکلاہوما میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے جون ۲۰۲۵ء میں ایران کی جوہری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے والے حملوں، ”آپریشن مڈنائٹ ہیمر“ (Operation Midnight Hammer) پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ نئی وضاحت پیش کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”وہ مسوری سے روانہ ہوئے اور پھر رات کے ایک بجے، جب چاند بھی نہیں تھا، گھپ اندھیرا تھا، دنیا کے سب سے ناقابلِ یقین پائلٹوں کے زیرِ کمان ان شاندار مشینوں نے اپنا ایک ایک بم اتارا، جو ایئر شوٹس کے ذریعے سیدھے ان منشیات کے کارخانوں میں گرے۔ درحقیقت وہ یہی کچھ کر رہے تھے۔ وہ ایٹمی اور منشیات دونوں پر کام کر رہے تھے۔ وہ منشیات بنا رہے تھے، لیکن وہ ایٹمی سرگرمیاں بھی کر رہے تھے۔ ان منشیات کے کارخانوں/جوہری کارخانوں کو اتنی زبردست ضرب لگائی گئی۔“
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے
واضح رہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں، جب اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا انتقال ہوا تھا، ٹرمپ نے ایرانیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ”اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں۔“ اس اپیل کا کوئی جواب نہ ملا اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کئے جانے کے ساتھ، یہ تنازع کسی حل کے بغیر بدستور برقرار ہے۔
امریکی شہریوں کی اکثریت ایران جنگ سے خوش نہیں ہے۔ سی این این/ایس ایس آر ایس (CNN/SSRS) کے ذریعے ۱۶ اور ۱۷ ستمبر کو ۱۲۰۶ افراد کے درمیان کئے گئے سروے میں پایا گیا کہ ۷۳ فیصد امریکیوں نے اس تنازع کے سلسلے میں ٹرمپ کے طریقہ کار کو ناپسند کیا، جبکہ ۷۵ فیصد امریکیوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ صرف ۲۵ فیصد امریکیوں کا ماننا تھا کہ ان کے پاس منصوبہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مادورو کی گرفتاری سے قبل ٹرمپ نے اے آئی چیٹ بوٹ ’گروک‘ سے مشورہ لیا: رپورٹ
یہ پہلا موقع ہے جب ٹرمپ نے ایران جنگ کی ایک وجہ کے طور پر منشیات کا حوالہ دیا ہے، اگرچہ وہ ماضی میں دیگر مقامات پر فوجی کارروائیوں کیلئے اسی طرح کے جواز استعمال کر چکے ہیں۔ مشرقی بحر الکاہل اور کیریبیئن میں جہازوں پر حملے اور وینزویلا کے اُس وقت کے صدر نکولس مادورو کو جنوری میں اغواء کئے جانے کے بعد انہوں نے یہی جواز پیش کیا تھا۔ مادورو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔