Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اب پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا

Updated: March 07, 2026, 10:37 PM IST

مسعود پزشکیان کی عرب ممالک سے معذرت، جب تک سامنے سے حملہ نہیں ہوگاتہران کی جانب سے کوئی فوجی کارروائی نہیں ہوگی

Iranian President Masoud Peshkeshian`s attitude softens but refuses to surrender
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے رویے میں نرمی مگر ہتھیار ڈالنے سے انکار

 ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ  ہمسایہ ممالک پر مزید حملے نہ کرے۔ جب تک ان ممالک کی جانب سے کوئی حملہ نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ ہوتے ہی ایرانی فوج نے اپنے آس پاس کے ان عرب ممالک پر حملے شروع کر دیئے تھے جہاں امریکی ایئر بیس موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ عرب ممالک سخت ناراض تھے، مگر اب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ہم صرف اسی صورت میں حملہ کریں گے جب ایران پر حملہ انہی ممالک کی سرزمین سے ہوگا۔
اب تک ہوئے حملوں پر معافی 
  اتنا ہی نہیں مسعود پزشکیان نے اب تک اپنے ہمسایہ ممالک  پر ہوئے حملوں کیلئے معافی بھی مانگی ہے۔ ایرانی صدر نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں پر ہمسایہ ممالک سے معذرت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہوں ... خطے کے ممالک کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے۔ہماری فوج پڑوسی ممالک کے خلاف حملے روک دے گی، سوائے اس کے کہ وہاں سے ہمارے خلاف حملے  کئے  جائیں۔‘‘ البتہ ایرانی صدر نے ہتھیار ڈالنے سے قطعاً انکار کیا۔ 
 مسعود پزشکیان نے کہا ’’ ہر ایرانی کی موجودگی دشمنوں کو مایوس کرتی ہے۔  ایران کے تحفظ کیلئے ہمیں آپسی ناراضگی اور غصے کے جذبات کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔وہ( امریکہ ) یہ خواب اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے کہ ہم غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں گے۔ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض خلیجی  ممالک پر ہونے والی شدید ایرانی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر اپنی فضائی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ اطلاع کے مطابق سنیچر کی صبح بھی بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ۔
 یاد رہے کہ ایران کی جانب سے عرب ممالک پر حملے کے سبب خطے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی اور ان ممالک کے سربراہان ایران سے ناراض تھے۔ اس تعلق سے عرب لیگ کا اجلاس بھی بلایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ہی ایرانی صدر نے حملوں کو روکنے کا اعلان کر دیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ، سعودی عرب یا کسی دیگر عرب ملک سے ایرانی کی کوئی گفتگو ہوئی ہے یا نہیں۔ 
اسرائیل کا تہران اور اصفہان پر نئے حملوں کا اعلان 
  اس دوران اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے تہران اور اصفہان میں ایرانی حکومت کے ’انفراسٹرکچر‘  پرنئے حملوں کی ’بڑے پیمانے پر لہر‘ شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ اعلان سنیچر کو  ایکس نیٹ ورک پر اپنے فارسی زبان کے اکاؤنٹ پر کیا۔ان نئے حملوں کا اعلان اس وقت کیا جا رہا ہے جب تہران میں گزشتہ رات شدید بم دھماکے ہوئے اور دارالحکومت کے مغرب میں واقع مہرآباد ایئرپورٹ پر زبردست دھماکوں کی اطلاع ملی تھی۔اسرائیلی فوج نے اس سے قبل ایک آپریشن کی تکمیل کا اعلان کیا تھا جس میں اس کے بقول  ۸۰؍سے زائد لڑاکا طیاروں نے تہران اور وسطی ایران میں اسلامی جمہوریہ حکومت کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔‘ یاد رہے کہ اسرائیل۔ ایران جنگ کو ۸؍ روز گزر چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK