ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نسل کشی کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی مہم کو ڈرامائی انداز میں تیز کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: June 11, 2026, 7:31 PM IST | Jerusalem
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نسل کشی کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی مہم کو ڈرامائی انداز میں تیز کر رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نسل کشی کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی مہم کو ڈرامائی انداز میں تیز کر رہا ہے۔ اس انسانی حقوق تنظیم کے مطابق، اسرائیلی حکومت بستیوں کی توسیع، زمینی قبضے، مکانات کی مسماری اور ریاستی حمایت یافتہ آباد کاروں کے تشدد کے ذریعے فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کر رہی ہے اور مقبوضہ علاقوں کے الحاق کو آگے بڑھا رہی ہے۔’’فلسطینیوں کا خاتمہ: مغربی کنارے کے بدو اور چرواہا برادریوں کی نسل کشی‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مہم ریاستی پالیسی کے تحت چلائی جا رہی ہے، نہ کہ سرکش آباد کاروں یا چند انتہاپسند عناصر کی وجہ سے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے الحاق کے اقدامات میں نمایاں تیزی لا دی ہے، جس میں باضابطہ الحاق کو واضح پالیسی ہدف بنایا گیا ہے، جبکہ آباد کار تحریک کے مذہبی-قوم پرست ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔خاص طور پر، امریکی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی کابینہ سے جمعرات کو۶۱؍ نئی بستیوں کو ً قائم کرنے کے لیے فنڈنگ کی منظوری دینے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق بستیوں کی توسیع، زمینی قبضے، بستیوں کے لیے بڑھتی ریاستی فنڈنگ، آباد کاروں کو ہتھیار دینے، فلسطینی گھروں کی مسماری اور آباد کاروں کے تشدد میں تیزی نے مل کر ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق ایریا سی (Area C) جو مقبوضہ مغربی کنارے کے۶۰؍ فیصد سے زائد رقبے پر مشتمل ہے اور جہاں اہم زرعی زمینیں، چراگاہیں اور قدرتی وسائل موجود ہیں، ان شر انگیزی کا خاص مرکز رہا ہے۔ ایمنسٹی کی سیکرٹری جنرل اگنیس کالامارڈ نے کہا ،’’فلسطینی برادریوں کو جڑ سے اکھاڑا جا رہا ہے، ان کی ملکیتیں چھینی جا رہی ہیں اور انہیں زبردستی منتقل کیا جا رہا ہے۔جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایک دانستہ، ریاستی قیادت میں ہونے والا الحاق ہے، جو بین الاقوامی قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے اور پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہا ہے۔‘‘ اس کا مقصد اسرائیلی کنٹرول اور نسل پرستی (اپارتھائیڈ) کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو ۳؍ ارب ڈالر منتقل: اسرائیلی میڈیا
ایمنسٹی نے بتایا کہ جنوری۲۰۲۳ء سے اپریل۲۰۲۶ء کے درمیان مغربی کنارے میں کم از کم ۱۱۷؍ بدو اور چرواہا برادریاں مکمل یا جزوی طور پر بے گھر ہوئیں، جبکہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا کہ اپریل۲۰۲۶ء کے آخر تک کم از کم۵۹۱۰؍ فلسطینی زبردستی بے گھر کیے جا چکے تھے۔تنظیم نے آباد کاروں کی چھاؤنیوں (آؤٹ پوسٹس) میں تیزی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اپریل۲۰۲۶ء تک مغربی کنارے میں ایسی۳۶۳؍ چھاؤنیاں تھیں، جن میں سے۲۱۲؍ چھاؤنیاں ۲۰۲۳ء کے بعد قائم کی گئیں۔ الزام ہے کہ اسرائیلی حکام نے ان میں سے بیشتر چھاؤنیوں کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کی جبکہ انہیں ختم کرنے کے لیے بہت کم اقدامات کیے۔رپورٹ کے مطابق الحاق نہ صرف بستیوں کی توسیع کے ذریعے بلکہ قانون سازی، انتظامی تبدیلیوں اور مالی امداد کے ذریعے بھی کیا جا رہا ہے۔ اور گزشتہ چند سالوں د رمیان۵۰؍ ہزار سے زائد بستیوں کے منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا۔ اپریل۲۰۲۶ء تک۱۰۲؍ نئی بستیوں کی اجازت دی جا چکی تھی، جو کسی ایک اسرائیلی حکومت کی طرف سے منظور کردہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسی دوران اسرائیلی حکام نے ایریا سی میں۳۴۰۷؍ فلسطینی گھروں اور عمارتوں کو مسمار کیا، جس سے تقریباً ۳۰۰۰؍فلسطینی بے گھر ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: نائیجر کے صحرا میں ٹرک خراب ہونے کے بعد کم از کم ۴۹؍ افراد پیاس سے ہلاک
اس کے علاوہ ایمنسٹی نے ریاستی حمایت یافتہ آباد کار تشدد میں بے تحاشہ اضافے کا بھی ذکرکیا۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی برادریوں پر حملوں میں گھروں، اسکولوں، گاڑیوں پر حملے، فصلوں اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی، مویشیوں کی چوری اور ہلاکت، دھمکیاں، مارپیٹ، چھرا گھونپنا اور آتش زنی شامل ہے۔ اسرائیلی حکام نے نہ صرف اس تشدد کو روکنے میں ناکامی کی بلکہ آباد کاروں کو ہتھیار دے کر، سیکیورٹی فورسیزکو حملوں میں مدد یا شرکت کی اجازت دے کر اور مجرموں کو تقریباً مکمل استثنیٰ دے کر اسے فعال طور پر سہولت فراہم کی۔
۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد اسرائیل نے آتشیں اسلحے کی لائسنسنگ کی ضروریات میں نرمی کی، جس سے آباد کاروں کو جاری کردہ ہتھیاروں میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔رپورٹ میں جنوبی حبرون کی پہاڑیوں کے گاؤں زانوتا کا معاملہ بھی اجاگر کیا گیا، جہاں قریبی چھاؤنی کے آباد کاروں کی جانب سے برسوں کی ہراسانی اور حملوں کے بعد تقریباً۲۵۰؍ فلسطینی بدو بے گھر ہو گئے۔ اسرائیلی عدالتوں کے احکامات کے باوجود جو حکام کو باشندوں کی واپسی اور تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کا پابند کرتے تھے، گاؤں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا اور آبادی ختم کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ کی۱۲؍ فیصد آبادی شہید یا لاپتہ ہو چکی ہے ‘‘
مزید برآں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوغطریس نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد، مسماریوں، بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کی بے دخلی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا، اور خبردار کیا کہ الحاق کی کوششیں اور جاری استثنیٰ دو ریاستی حل کی عملداری کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ایمنسٹی نے بین الاقوامی برادری پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیلی قبضے اور نسل پرستی کےخلاف قانونی فرائض کے باوجود عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کالامارڈ نے کہا کہ دنیا کے لیڈرجو الحاق کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن بامعنی اقدامات کرنے میں ناکام رہتے ہیں، درحقیقت انسانیت کے خلاف جرائم کو قابل قبول بناتے ہیں۔ بعد ازاں ایمنسٹی نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قبضے، نسل پرستی اور مبینہ نسل کشی میں معاون تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کو روکیں، اور اسرائیلی حکام (بشمول وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر خزانہ بزالیل سموٹریچ، وزیر قومی سلامتی اتمار بین گویر، وزیر برائے بستیاں اوریت ا سٹروک، اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز) پر ہدفی پابندیاں عائد کریں۔ دریں اثناء فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ فرانس نے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آباد کاروں کے تشدد سے منسلک افراد کو نشانہ بناتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرانس نے خاص طور پر اسرائیلی وزیر خزانہ بزالیل سموٹریچ، آباد کار تنظیموں کے چار رہنماؤں اور تشدد کے الزام میں۲۱؍ آباد کاروں کو فرانسیسی سرزمین میں داخلے سے روک دیا ہے۔