Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپیس ایکس آئی پی او، ۴۴۰۰ افراد کو لکھ پتی، ۴۰۰ سے زائد افراد کو ۱۰۰ ملین ڈالر کا مالک بنا سکتا ہے

Updated: June 11, 2026, 8:38 PM IST | Washington

اسپیس ایکس کا آئی پی او کارپوریٹ دنیا میں دولت بنانے کا ایک تاریخی لمحہ بننے جا رہا ہے۔ اس کی بدولت ۴۴۰۰ سے زائد موجودہ اور سابق ملازمین کے شیئرز کی مالیت کے ایک ملین ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے اور انہیں لکھ پتی بناسکتی ہے۔ تقریباً ۴۰۰ ملازمین کے پاس ایسے شیئرز ہونے کی توقع ہے جن میں سے ہر ایک کی مالیت کم از کم ۱۰۰ ملین ڈالر ہوگی۔

Elon Musk. Photo: X
ایلون مسک۔ تصویر: ایکس

کل ۱۲ جون کو ایلون مسک کی کمپنی ’اسپیس ایکس،‘ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑے آئی پی او جاری کرے گی۔ اس آئی پی او میں کمپنی کے شیئرز ۱۳۵ ڈالر فی شیئر کے حساب سے پیش کئے جارہے ہیں جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً ۷۷ء۱ کھرب ڈالر ہو جائے گی۔ اسپیس ایکس کا آئی پی او کارپوریٹ دنیا میں دولت بنانے کا ایک تاریخی لمحہ بننے جا رہا ہے۔ اس کی بدولت ۴۴۰۰ سے زائد موجودہ اور سابق ملازمین کے شیئرز کی مالیت کے ایک ملین ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے اور انہیں لکھ پتی بناسکتی ہے۔ 

سان فرانسسکو میں قائم انویسٹمنٹ پلیٹ فارم ’ہِل ڈاٹ کام‘ (Hill.com) کے تجزیے کے مطابق، ان ملازمین میں سے تقریباً ۴۰۰ افراد کے پاس ایسے شیئرز ہونے کی توقع ہے جن میں سے ہر ایک کی مالیت کم از کم ۱۰۰ ملین ڈالر ہوگی۔ ’ہِل ڈاٹ کام‘ کے بانی اور سی ای او اینڈریو بینسن نے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ملازمین کی سطح پر دولت کی تخلیق کا یہ دائرہ کار، انتہائی غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”زیادہ تر آئی پی اوز کے ساتھ، آپ عام طور پر صرف بانیوں کو ہی ارب پتی بنتے دیکھتے ہیں۔ لیکن اسپیس ایکس آئی پی او کے معاملے میں اس حد پر ۴۰۰ افراد کا ہونا غیر معمولی بات ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک بھاری گراوٹ، سرمایہ کاروں میں تشویش

عام ملازمین راتوں رات لکھ پتی بن جائیں گے

اسپیس ایکس میں اس وقت تقریباً ۲۲۰۰۰ ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ، سیکڑوں سابق ملازمین کے پاس اب بھی وہ شیئرز موجود ہیں جو انہوں نے کمپنی میں ملازمت کے دوران حاصل کئے تھے۔ انجینئرز، فیکٹری ورکرز اور لانچ سائٹ کے عملے سبھی نے اپنی باقاعدہ تنخواہوں کے ساتھ ساتھ اسٹاک ایوارڈز (شیئرز) حاصل کئے تھے۔

مثال کے طور پر، اس آئی پی او سے اسپیس ایکس میں لانچ انجینئر رہ چکے ٹریور ہائز کو زبردست مالی منافع ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۱ء میں شمولیت اختیار کی اور وہاں ۱۲ سال تک کام کیا۔ اس دوران انہیں ایک لاکھ سے زیادہ شیئرز ملے تھے جن کی مالیت ۱۳۵ ڈالر کی آئی پی او قیمت پر کم از کم ۵ء۱۳ ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ایک اور سابق انجینئر، گیون پیٹٹ، ۲۰۱۲ء میں کمپنی کا حصہ بنے تھے جب کمپنی کے ایک شیئر کی قیمت صرف ۸۰ء۱۳ ڈالر تھی۔ انہوں نے نقد رقم کے بجائے کچھ بونس شیئرز کی شکل میں لینے کا انتخاب کیا، بالآخر ان سے حاصل ہونے والی رقم کو ڈینور میں اپنے گھر کا قرض ادا کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اب بھی ان کے پاس اسپیس ایکس کے ۵۰ ہزار سے زیادہ شیئرز موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ریلائنس میٹا کے اشتراک سے جام نگر میں اے آئی سے لیس ڈیٹا سینٹر قائم کریگی

اسپیس ایکس آئی پی او کے وسیع تر معاشی اثرات

توقع کی جا رہی ہے کہ اس آئی پی او کے اثرات کمپنی کے ملازمین تک محدود نہیں رہیں گے۔ جنوبی ٹیکساس میں، جہاں اسپیس ایکس کی ’اسٹار بیس‘ اور برونز ویل کے قریب بڑی تنصیبات موجود ہیں، ملازمین کی دولت میں اچانک ہونے والا یہ اضافہ مقامی کاروباروں، ہاؤسنگ مارکیٹوں (رئیل اسٹیٹ) اور کمیونٹی انویسٹمنٹ کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسپیس ایکس کے آئی پی او کا موازنہ ملازمین کیلئے پیدا ہونے والی دولت کے پیمانے کے لحاظ سے گوگل اور فیس بک کی پبلک آفرنگز سے کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK