Updated: June 11, 2026, 10:05 PM IST
| Jerusalem
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے وکیل نے بتایا کہ ان کے ہاتھ پاؤں دونوں کو جکڑ کر رکھا گیا ہے، انہیں محدود خوراک دی جا رہی ہے، انہیں پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی ادارہ صحت، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر کئی تنظیموں نے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ۔ تصویر: ایکس
شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ ایک سال سے زائد عرصے میں پہلی بار بدھ کے دن عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے یروشلم میں اسرائیلی سپریم کورٹ کے سامنے اپنی جیل کی کوٹھڑی سے ویڈیو کال کے ذریعے شرکت کی۔ اس دوران انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ بچوں کے معالج (پیڈیاٹریشن) ابو صفیہ نے نے اپنی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور اپنے وکیل ناصر ابو عودہ کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ ان کی حراست ”ناانصافی اور من مانی“ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے اپنا کام بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کے معیار کے مطابق انجام دیا۔“
یہ بھی پڑھئے: بارسلونا: آئرش بینڈ Kneecap کا فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کی رہائی کا مطالبہ
ابو صفیہ کے وکیل نے بتایا کہ ان کے ہاتھ پاؤں دونوں کو جکڑ کر رکھا گیا ہے، انہیں محدود خوراک دی جا رہی ہے، انہیں پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔ ۳ جون کو اسرائیلی حکام نے انہیں نیگیو (Negev) جیل سے جنوبی اسرائیل کی نفحہ (Nafha) جیل میں قید تنہائی میں منتقل کردیا ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی ادارہ صحت، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر کئی تنظیموں نے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پرمقبوضہ مغربی کنارے میں نسل کشی تیز کرنے کا الزام
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے ابو صفیہ کو ۲۷ دسمبر ۲۰۲۴ء کو کمال عدوان اسپتال پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔ ۱۴ فروری ۲۰۲۵ء کو جنوبی کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل یارون فنکلمین نے اسرائیل کے ’ان لاء فل کمبیٹنٹ لاء‘ (غیر قانونی جنگجو قانون) کے تحت ان کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ ۲۰۰۲ء میں کینسیٹ کے ذریعے نافذ کردہ یہ قانون، اسرائیلی حکام کو باضابطہ الزامات عائد کئے بغیر یا عدالت کے سامنے کافی شواہد پیش کئے بغیر کسی بھی فرد کو غیر معینہ مدت کیلئے حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ بدھ کے دن عدالت نے اس بات پر فیصلہ ملتوی کر دیا کہ آیا ان کی حراست جاری رہے گی یا نہیں۔ یہ فیصلہ چند گھنٹوں یا دنوں بعد متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ۱۷؍ ہزار فلسطینیوں کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے سے روک دیا
ابو صفیہ کے بیٹے کا بياں؛ والد کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات نظر آ رہے تھے
ابو صفیہ کے بیٹے الیاس نے ’انادولو ایجنسی‘ کو بتایا کہ عدالت میں ان کے والد کی حالت دیکھ کر خاندان شدید صدمے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نے ان کے چہرے کے نقوش پر درد بکھرا ہوا دیکھا۔“ الیاس نے اپنے والد کے چہرے کے بائیں جانب تشدد کے واضح نشانات اور ہاتھوں پر جلدی بیماری پھیلنے کی اطلاع دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”وہ مہینوں کی تکالیف کی وجہ سے شدید نڈھال دکھائی دے رہے تھے۔“ ان کی یہ حالت دیکھ کر خاندان کے افراد رو پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ نسل کشی: ۴۶۰ سے زائد سابق یورپی لیڈران کا ای یو سے اسرائیل کی تجارتی رسائی معطل کرنے کا مطالبہ
الیاس نے اس تصویر کو برسوں تک لوگوں کی جانیں بچانے والے ایک ڈاکٹر کی طرف سے ”انسانیت کی دہائی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”اگر یہ وہ نشانات ہیں جو عوام کو نظر آ رہے ہیں، تو جیل کی دیواروں کے پیچھے اب بھی کتنی تکلیفیں چھپی ہوئی ہوں گی؟“ واضح رہے کہ اس وقت تقریباً ۱۰ ہزار سے زائد فلسطینی، اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔