Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: تعمیرِ نوکیلئے ۴۹؍ ارب ڈالر درکار، جنگ سے ۵۸؍ ارب ڈالر سے زائد کا نقصان

Updated: June 11, 2026, 10:04 PM IST | Gaza

عالمی بینک، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق غزہ پٹی میں جنگ کے نتیجے میں مجموعی نقصان اور معاشی خسارہ تقریباً ۵۸؍ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ تعمیرِ نو اور بنیادی خدمات کی بحالی کے لیے آئندہ ۱۸؍ ماہ میں ۳ء۲۶؍ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رہائشی مکانات، اسپتال، اسکول، زراعت اور کاروباری شعبے شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً ۱۹؍ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

عالمی بینک، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی غزہ ریپڈ ڈیمیج اینڈ نیڈز اسسمنٹ (RDNA) کی حتمی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ پٹی میں جاری جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اور معاشی تباہی کے ازالے کے لیے تقریباً ۴۹؍ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی خدمات کی بحالی، اہم انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ابتدائی ۱۸؍ ماہ کے دوران ہی ۳ء۲۶؍ ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، جبکہ مجموعی تعمیرِ نو کا عمل اس سے کہیں زیادہ وسائل کا متقاضی ہوگا۔ تشخیص میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق جسمانی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ۲ء۳۵؍ ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ معاشی اور سماجی شعبوں کو ۷ء۲۲؍ ارب ڈالر کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: ایرانی حکام نے فون کرکے حملہ روکنے کی درخواست کی، ایران کی تردید

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رہائش، صحت، تعلیم، تجارت اور زراعت سمیت تقریباً تمام شعبے تباہی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ۳؍ لاکھ ۷۱؍ ہزار ۸۸۸؍ سے زائد رہائشی یونٹ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ ۵۰؍ فیصد سے زیادہ اسپتال فعال نہیں رہے۔ اسی طرح تقریباً تمام تعلیمی ادارے یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا شدید نقصان کا شکار ہیں۔ معاشی صورتحال بھی انتہائی سنگین قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کی معیشت ۸۴؍ فیصد تک سکڑ چکی ہے جس کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت اور انسانی بحران میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ جنگ کے انسانی اثرات کو بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی ۶۰؍ فیصد سے زیادہ آبادی اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً ۱۹؍ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ متعدد بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق خواتین، بچے، بزرگ افراد، معذور شہری اور پہلے سے کمزور سماجی طبقات اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ مقامی فلسطینی حکام کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو سال سے جاری جنگ میں ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ ۷۲؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں افراد اب بھی ملبے تلے لاپتا ہیں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ تعمیرِ نو کا عمل انسانی امداد کے ساتھ متوازی طور پر آگے بڑھنا چاہیے تاکہ ہنگامی امدادی سرگرمیوں سے مستقل بحالی اور ترقی کی جانب مؤثر منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران میں شدید تصادم، مشرقِ وسطیٰ نئے خطرناک مرحلے میں داخل

دستاویز کے مطابق بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کی کامیابی کے لیے کئی بنیادی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ ان میں مستقل جنگ بندی، مناسب سیکوریٹی انتظامات، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، ضروری خدمات کی فوری بحالی، لوگوں اور سامان کی آزادانہ نقل و حرکت، اور ایک شفاف مالیاتی نظام کا قیام شامل ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تعمیرِ نو کا عمل فلسطینی قیادت کے تحت ہونا چاہیے اور مستقبل میں فلسطینی اتھاریٹی کو غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حکمرانی سنبھالنے کے لیے واضح راستہ فراہم کیا جانا چاہیے۔

عالمی بینک، اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ تعمیرِ نو کا منصوبہ جامع، شفاف اور جوابدہ ہونا چاہیے، جس میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی ضروریات کو خصوصی ترجیح دی جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملبہ ہٹانے، غیر پھٹے دھماکا خیز مواد کو محفوظ بنانے، زمین اور جائیداد کے حقوق سے متعلق تنازعات کے حل اور بین الاقوامی وسائل کی منظم فراہمی کے بغیر تعمیرِ نو کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق غزہ کی بحالی جدید تاریخ کے سب سے بڑے تعمیرِ نو منصوبوں میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے نہ صرف مالی وسائل بلکہ طویل المدتی سیاسی استحکام اور بین الاقوامی تعاون بھی ناگزیر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK