ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان میں جاری گفتگو کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کاپھرھمکانے والا رویہ ،ا لبتہ معاہدے کی توقع ظاہر کی۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 11:58 AM IST | Mumbai
ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان میں جاری گفتگو کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کاپھرھمکانے والا رویہ ،ا لبتہ معاہدے کی توقع ظاہر کی۔
پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے متوقع مذاکرات پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہیں، اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے کام کرے گا، چاہے ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پائے یا نہ پائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے سفارتی اور فوجی دونوں طرح کے منظرناموں کیلئے خود کو تیار کر لیا ہے۔ یعنی وہ ایک بار پھر فوجی کارروائی کا اشارہ دے رہے ہیں۔
ڈو نالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان میں مذاکرات کرے گا۔انہوں نے امریکی وفد کی کامیابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے تیزی سے کارروائی کرے گا۔ان کے نزدیک امریکہ کو کسی ’متبادل منصوبے‘ کی ضرورت نہیں ہے۔مزید سخت لہجہ اپناتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن ایران کی تقریباً تمام فوجی صلاحیتیں تباہ کر چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کیلئے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رسہ کشی برقرار، گفتگو کا آغاز، نتیجہ خیز ہونے کی اُمید
ٹرمپ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں
دوسری جانب امریکی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر اب بھی کسی معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے امکان کیلئے بھی تیار ہیں، کیونکہ حالیہ عرصے میں ایرانی رویے پر امریکہ میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے طرز عمل نے ڈونالڈ ٹرمپ کو سیاسی طور پر ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔مذاکرات کے آغاز کے باوجود امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ پہلے دور میں کسی نمایاں پیش رفت کے امکانات ابھی واضح نہیں ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کیلئے ہفتے یا مہینے درکار ہو سکتے ہیں، جس کیلئے جنگ بندی کی مدت میں مزید توسیع کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس تناظر میں نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جو واشنگٹن کی سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر اس حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کافی حد تک مذاکراتی بنیاد نہ ہونے کے باوجود اتنے اعلیٰ سطح کے عہدیدار کو کیوں شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے ہندوستان دورے پر شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا
باخبر ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ سفارتی عمل میں براہِ راست کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے ایلچیوں اور ایرانی جانب کے درمیان پچھلے دو ادوار میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا اختتام فوجی تصادم پر ہوا تھا۔مبصرین کا خیال ہے کہ نائب صدر کو بھیجنے کا مقصد دوہرا پیغام دینا ہو سکتا ہے؛ ایک طرف مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے پر زور دینا اور دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں مزید سخت گیر آپشن کیلئے تیار رہنا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری بحران میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔