کسانوں کی تشویش میں اضافہ! خریف کی فصلیں سوکھنے کا خطرہ، آبی ذخائر میں بھی کمی آئی ہے،صورتحال تشویشناک ہونے کا خدشہ۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 11:59 AM IST | Inquilab News Network/Agency | Mumbai
کسانوں کی تشویش میں اضافہ! خریف کی فصلیں سوکھنے کا خطرہ، آبی ذخائر میں بھی کمی آئی ہے،صورتحال تشویشناک ہونے کا خدشہ۔
ریاست میں اگست اور ستمبر کے دوران بارش نے طویل وقفہ لے لیا ہے۔ خریف کی فصلوں کے پھلنے پھولنے کے اہم مرحلے میں بارش نہ ہونے کی وجہ سےفصلیں سوکھنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ روزانہ۲ء۵؍ ملی میٹر سے کم بارش کو تکنیکی معیار مانتے ہوئے، ریاست کے چار ڈویژن کے۱۹؍ اضلاع کے۸۳؍ تعلقوں میں۲۰؍ دن سے زائد عرصے کا طویل بارش کا وقفہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔حالانکہ مانسون کی شروعات اچھی ہوئی تھی ، جس سے اندازہ لگایا جارہا تھاکہ امسال بارش اطمینان بخش ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:ملک بھر میں ڈی آر آئی کی کارروائی میں ۴۱؍ کلو غیر ملکی سونا ضبط
کون سے علاقے زیادہ متاثر ہیں؟
ریاست میں طویل عرصے تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے، خاص طور پر شمالی مہاراشٹر اور مغربی مہاراشٹر میں صورتحال زیادہ سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق،۲۳؍ تعلقوں میں ۳۰؍ دن سے زائد عرصے تک بارش نہیں ہوئی، جس کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک بن گئی ہے۔
سکال کی رپورٹ کے مطابق یکم اگست سے۷؍ ستمبر۲۰۲۶ء کے دوران پونے ضلع کے شیرور (گھوڑ ندی) اور اہلیہ نگر(احمد نگر ضلع) کے کرجت تعلقوں میں سب سے زیادہ، یعنی مسلسل۳۸؍ دن کا بارش کا وقفہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسکے بعد بارامتی، دَونڈ، پرندھر (پونے)، کھام گاؤں (بلڈانہ)، ناندگاؤں اور ایولہ (ناسک)، آٹپاڈی (سانگلی) اور مان و پھلٹن (ستارا) تعلقوں میں مسلسل۳۷؍ دن تک بارش نہیں ہوئی ہے۔اسی طرح سنگم نیر، دیولالی اور کلون میں۳۵؍ دن، جبکہ گیورائی (بیڑ)، پیٹھن (چھترپتی سمبھاجی نگر)، پرانڈا (دھاراشیو-عثمان آباد)، شیو گاؤں، انداپور اور مالشیرس میں۳۴؍ دن کا طویل بارش کا وقفہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یمن: فوجی کشیدگی کے نتیجے میں ایک ہی دن میں ۱۴۰۰؍ خاندان بے گھر
صورتحال کیا ہے؟
۸۳؍ متاثرہ تعلقوں کو بارش کے وقفے کی مدت کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے تو ۴۲؍ تعلقوں میں۲۰؍ سے۲۵؍دن کا وقفہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر تعلقے ودربھ کے اکولہ، امراوتی، واشم اور بلڈانہ اضلاع کے ہیں۔۲۵؍ سے ۳۰؍ دن تک بارش نہ ہونے والے۱۸؍ تعلقوں میں شمالی مہاراشٹر کے بھساول، املنیر، راویر اور دھولیہ، جبکہ مراٹھواڑہ کے پرلی (بیڑ) تعلقے شامل ہیں۔ اسکے علاوہ۲۳؍ تعلقوں میں۳۰؍دن سے زائد عرصے تک بارش غائب رہی ہے۔
زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی
اگست کے آغاز سے ہی بارش غائب رہنے اور بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے لگی ہے۔ کئی علاقوں میں کنویں اور بورویل بھی خشک ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ خریف کے موسم میں سویا بین، کپاس، باجرہ اور دالوں کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت فوری طور پر ضروری اقدامات کرے اور متاثرہ کسانوں کے لیے امداد کا اعلان کرے۔
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: میونسپل بھرتی کے نام پر افواہیں، شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل
شمالی مہاراشٹر کے سب سے زیادہ تعلقے متاثر
شمالی مہاراشٹر کے چار اضلاع کے۳۱؍ تعلقے بارش کے طویل وقفے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں جلگاؤں کے۱۳، احمد نگر کے۹، ناسک کے۷؍ اور دھولیہ کے۲؍ تعلقے شامل ہیں۔ودربھ کے ۶؍ اضلاع کے۲۰؍ تعلقےمتاثر ہوئے ہیں۔ ان میں بلڈانہ کے۷، اکولہ کے۵، امراوتی کے۴، واشم کے۲، وردھا کا ایک اور ناگپور کا ایک تعلقہ شامل ہے۔
مراٹھواڑہ کے۵؍ اضلاع کے۱۷؍ تعلقوں میں بارش کی کمی دیکھی گئی ہے۔ بیڑ کے۶، اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر) کے۴، عثمان آباد(دھاراشیو) کے۴، پربھنی کے۲؍ اور جالنہ کے ایک تعلقے میں صورتحال تشویشناک ہے۔مغربی مہاراشٹر کے چار اضلاع کے۱۵؍ تعلقے بھی بارش کے طویل وقفے کی زد میں ہیں۔ ان میں پونے کے۶، شولاپور کے۴، ستارا کے۴؍ اور سانگلی کا ایک تعلقہ شامل ہے۔