وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی نے اس سال کے وسط میں قانون کو منظوری دینے کا ارادہ ظاہر کیا، یہودی آباد کاروں کے مظالم اور جبر کے خلاف عملی اقدام کا نمونہ پیش کرنے کی کوشش۔
مغربی کنارے میں بسائی گئی غیر قانونی یہودی بستیاں- تصویر:آئی این این
آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس سال جولائی کے وسط تک مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے ساتھ سامان کی تجارت کو روکنے کا ایک قانون منظور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب کچھ امریکی قانون ساز اور کاروباری گروپ اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔
آئرلینڈ کی حکومت کا شمار غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کے نمایاں ناقدین میں ہوتا ہے۔ آئرلینڈ نے سب سے پہلے اکتوبر ۲۰۲۴ء میں یہودی بستیوں سے تجارت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے اس قانون سازی کو حزب اختلاف کے سیاست دانوں کے دباؤ کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔ آئرلینڈ حکومت سروسز اور اس بل کی مخالفت کرنے والی بین الاقوامی لابی کمپنیوں پر بھی گرفت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
گزشتہ برس اکتوبر میں ذرائع کے توسط سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ پابندی سے متعلق اس بل کا دائرہ صرف اشیا تک محدود رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے گزشتہ ہفتے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خدمات پر پابندی کے دائرے کو وسیع کرنا ’ممکن الحصول‘ اور ’قابل عمل‘ نہیں ہے۔آئرلینڈ کے مرکزی شماریات کے دفتر کے بقول بل کو صرف اشیا تک محدود کرنے سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں سے درآمد کی جانے والی صرف مٹھی بھر مصنوعات جن میں ۲؍ لاکھ ۳۴؍ ہزار ڈالر یورو سالانہ مالیت کے پھل ہی متاثر ہوں گے۔
کاروباری گروپوں نے متنبہ کیا کہ خدمات کا وسیع زمرہ غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ناقابل عمل پابندیوں میں کھینچ سکتا ہے۔میک اینٹی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ’’ہم نے مستقل طور پر پرامن حل کی وکالت کی ہے... لیکن اسرائیلی حکومت کی طرف سے حال ہی میں اٹھائے گئے اقدامات جن میں مغربی کنارے میں آباد کاروں کے فلسطینیوں پر تشدد میں مسلسل اضافہ، لبنان میں جاری تشدد ہمیں اس فیصلے پر مجبور کر رہے ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ فلسطین کے مغربی کنارے نامی علاقے میں یہودیوں تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جبراً بستیاں بسائی ہیں۔ وہ وہاں ہزاروں سال سے رہنے والے فلسطینیوں کے ساتھ جبر کرنے سے باز نہیں آتے۔ بین الاقوامی اداروں کے احکامات کا اسرائیل پر کوئی اثر نہیں ہے جبکہ دیگر ممالک کی طرف سے کئی گئی تنقیدوں اور مذمت کا کوئی حاصل نہیں ہے۔ آئر لینڈ جس نے اکثر اسرائیلی مظالم کے خلاف عملی قدم اٹھایا ہے اس بار بھی وہ تجارت کا سامان روک کر ایک پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے کہ جبری طور پر قبضہ کی گئی زمین پر رہنے والوںکے ساتھ تعاون نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں کاروباری چیزیں فراہم کرنا ان کا ساتھ دینا ہے۔