Updated: April 20, 2026, 10:08 PM IST
| Dublin
ایران جنگ کے پس منظر میں ایک آئرش پادری کا خطبہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کے حوالے سے متنازع دعا کی۔ ویڈیو نے عالمی سطح پر مزاح اور تنقید دونوں کو جنم دیا، جبکہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور اقدامات پہلے ہی عالمی لیڈروں اور قانون سازوں کی تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں۔
ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر جاری تنازعات کے درمیان ایک آئرش پادری کا خطبہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے دنیا میں امن کے لیے دعا کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں طنزیہ انداز اختیار کیا۔ وائرل ویڈیو میں پادری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’’جنگ ہو رہی ہے، جو کہ سراسر اشتعال انگیز ہے۔ ہم امن کے لیے دعا کرتے ہیں، دنیا ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے دعا کرتی ہے، رب انہیں بلالے…‘‘ جس پر حاضرین ہنس پڑے۔ اس کے فوراً بعد اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’کہ وہ اس کا درد دور کر دے گا۔‘‘ یہ جملہ اگرچہ مزاحیہ انداز میں کہا گیا، لیکن اس نے سوشل میڈیا پر وسیع ردعمل کو جنم دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران سے متعلق کشیدگی اور جنگی بیانیہ عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔
آن لائن صارفین نے اس ویڈیو پر مختلف انداز میں ردعمل دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’جیسا کہ ایم اے جی اے کہے گا، یہ ایک مذاق تھا!‘‘ جبکہ دوسرے نے کہا، ’’دنیا بھر میں کروڑوں لوگ بالکل اسی چیز کے لیے دعا کر رہے ہیں۔‘‘ ایک اور تبصرہ تھا، ’’پادری وہ کہہ رہے ہیں جو دنیا کی ۹ء۹۹؍ فیصد افراد کی سوچ ہے‘‘، جبکہ کسی نے طنزاً لکھا، ’’سمجھدار امریکیوں کی جانب سے آمین!‘‘ مجموعی طور پر، تبصروں میں مزاح اور تنقید دونوں کا امتزاج دیکھا گیا، لیکن زیادہ تر صارفین نے اسے ایک طنزیہ ردعمل کے طور پر دیکھا۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنے ہیں۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے سخت اور متنازع بیانات دیے، جن میں اسے ’’کریزی باس‘‘ کہنا اور یہ انتباہ شامل تھا کہ ’’آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی۔‘‘ ان بیانات کے بعد امریکی اور بین الاقوامی سیاست میں بھی ردعمل سامنے آیا۔ ایمانوئل میکرون نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’جب آپ سنجیدہ ہونا چاہتے ہیں تو آپ ہر روز مختلف بات نہیں کہہ سکتے… شاید آپ کو ہر روز بات نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لوزیانا فائرنگ: باپ نے ۸؍ بچوں کاقتل کردیا، پولیس کے اقدام میں ملزم ہلاک
امریکی سیاست میں بھی آوازیں بلند ہوئیں۔ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے کہا کہ ’’ہر ذمہ دار فرد کا فرض ہے کہ وہ غیر قانونی احکامات کو مسترد کرے۔‘‘ جبکہ الہان عمر نے ٹرمپ کے بیان کو ’’بیمار کن اور خطرناک‘‘ قرار دیا۔ مزید تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ٹرمپ نے اے آئی سے تیار کردہ تصویر شیئر کی جس میں وہ خود کو یسوع مسیح کے روپ میں دکھا رہے تھے۔ اس اقدام پر نہ صرف ناقدین بلکہ ان کے حامیوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل آیا، جس کے بعد انہوں نے تصویر حذف کر دی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان پر وحشیانہ حملہ، ۴؍قصبوں کے کئی گھروں کو تباہ کر دیا
سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کے متضاد بیانات، سخت زبان اور غیر معمولی اقدامات نے عالمی سطح پر بے چینی کو بڑھایا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یہ پورا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں بیانیہ، طنز اور عوامی ردعمل کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جہاں ایک پادری کا مختصر جملہ بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔