• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا شیوسینا کا نشان اُن کو دینا مناسب ہے جو دَل بدلی کے ملزم ہیں: سپریم کورٹ

Updated: October 07, 2026, 10:51 AM IST | Agency | New Delhi

شیوسینا بنام شیوسینا قانونی جنگ کی شنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے منگل کو یہ اہم سوال اٹھایا کہ کیا پارٹی کیلئے مختص انتخابی نشان  (تیر کمان) ایسے افراد کو دینا مناسب ہے  جو دَل بدلی جیسے ’آئینی گناہ‘ کے ملزم ہیں؟

Arguments from the Eknath Shinde group are currently being heard in the Supreme Court. Photo: INN
اس وقت سپریم کورٹ میں  ایکناتھ شندےگروپ کے دلائل سنے جارہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

شیوسینا بنام شیوسینا قانونی جنگ کی شنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے منگل کو یہ اہم سوال اٹھایا کہ کیا پارٹی کیلئے مختص انتخابی نشان  (تیر کمان) ایسے افراد کو دینا مناسب ہے  جو دَل بدلی جیسے ’آئینی گناہ‘ کے ملزم ہیں؟

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ سوال اس وقت اٹھایا جب شندے  سینا  کی جانب سے  سینئر وکیل نیرج کشن کول اپنے دلائل  پیش کررہے تھے۔ جسٹس باغچی نے پوچھا کہ  ’’انتخابی نشان  کے اپنے جذبات ان لوگوں کے حق میں ہوں  گے جنہوں نے آئینی گناہ کیا ہے یا ان  کے حق میں  ہوں گے جنہوں نے آئینی گناہ کی شکایت کی ہے؟‘‘ سہ رکنی بنچ ۲۰۲۲ء میں  شیوسینا میں ہونےوالی  تقسیم سے متعلق درخواستوں کے ایک مجموعے  پر  سماعت کر رہی ہے۔ ان میں ادھو ٹھاکرے کی جانب سے داخل  وہ درخواست بھی شامل ہے جس میں پارٹی کا نام اور انتخابی نشان شندے گروپ کو دینے کے الیکشن کمیشن  کے فیصلے کو چیلنج کیاگیا ہے۔سینئر وکیل نیرج کشن کول نےاراکین اسمبلی کی اکثریت کو پارٹی کی اکثریت  تسلیم کرنے کے الیکشن کمیشن  کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر کے تحت یہ طے کرنے کیلئے  کہ کون سا گروپ سیاسی پارٹی کی حیثیت رکھتا ہے، قانون ساز پارٹی (اراکین اسمبلی کی تعداد) کی اکثریت  کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست ہے۔

 
انہوں نے سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیا، جن میں سبھاش دیسائی کیس میں آئینی بنچ کا فیصلہ بھی شامل تھا  اور کہا کہ اس فیصلے میں اراکین اسمبلی کی تعداد کی بنیاد پر اکثریت کے ٹیسٹ کے استعمال پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اُدھو خیمہ بھی سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کا حوالہ دے کر اپنے دلائل پیش کررہا ہے۔  بنچ نے یہ بھی سوال کیا کہ جب   اراکین اسمبلی کی  اہلیت پر ہی سوال ہو اور ان کی نااہلی کی کارروائی زیر سماعت ہوتو   پھر ان کی تعداد کی بنیاد پر پارٹی کافیصلہ کیسے کیا جاسکتاہے۔

شندے گروپ کے وکیل نے کہا کہ  ان کی حمایت کرنے والے۴۰؍ اراکین اسمبلی نے۲۰۱۹ءکے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں منتخب ہونے والے شیوسینا کے۵۵؍  اراکین کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کا ۷۶؍ فیصد ووٹ حاصل کیاتھا۔ انہوں نے لوک سبھا کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا اورکہا کہ شندے کی حمایت کرنے والے۱۳؍ اراکین پارلیمان نے پارٹی کے منتخب ۱۸؍ اراکین کو ملنےوالے  ووٹوں میں سے ۷۳؍ فیصد  ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس لئے اکثریت ان کے ساتھ تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK