Inquilab Logo Happiest Places to Work

لاڈلی بہن اسکیم کی وجہ سےترقیاتی کاموں میں رکاوٹ؟

Updated: May 26, 2026, 3:46 AM IST | Satara

بی جے پی رکن پارلیمان اُدین راجے بھوسلے کے بیان سے سیاسی حلقوں میں ہلچل، فنڈ کی کمی دور کرنے کی راہ تلاش کرنے کیلئے میٹنگ

Adin Raje Bhosale has created a problem for the BJP government (File photo)
ادین راجے بھوسلے نے بی جے پی حکومت کیلئے مشکل کھڑی کر دی ہے ( فائل فوٹو)

اپوزیشن لیڈران حکومت مہاراشٹر کی لاڈلی بہن اسکیم کے تعلق سے کئی بار الزام لگا چکے ہیں کہ اس کی وجہ سے حکومت کے خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے اور وہ ترقیاتی کام نہیں کر پا رہی ہے۔ اب خود بی جے پی کے رکن پارلیمان ادین راجے بھوسلےنے بھی کھلے عام کہا ہے کہ لاڈلی بہن اسکیم کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈ نہیں مل رہا ہے۔ چھتر پتی شیواجی کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رکن پارلیمان اُدین راجے بھوسلے نے ستارا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاڈ لی بہن اسکیم کی وجہ سے دیگر کاموں کیلئے فنڈ نہیں دیا جا رہا ہے۔ان کے اس بیان سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
  واضح رہےکہ اتوار کے روز ستارا میونسپل کونسل کےکونسلروں کی  ایک میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں رکے ہوئے ترقیاتی کاموں کے تعلق سے گفتگو کی گئی۔ اس میٹنگ کے بعد اُدین راجے بھوسلے نے میڈیا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا ’’ حکومت نے جو لاڈ لی بہن اسکیم  جاری کی ہے اس نے خزانے پرکافی بوجھ ڈالا ہے۔ دیگر سرکاری کاموں کیلئے اتنا فنڈ نہیں مل رہا ہے جتنا ملنا چاہئے۔ یہ میٹنگ اسی بات پر غوروخوض کیلئے منعقد کی گئی تھی کہ اس مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے؟‘‘یاد رہے کہ اس میٹنگ میں ریاستی وزیر برائے پی ڈبلیو ڈی شیویندر راجے بھوسلے بھی موجود تھے جو خود بھی چھترپتی شیواجی کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔  
 کہا جا رہاہے کہ کچھ دنوں سے ادین راجے بھوسلے اور شیویندر راجے بھوسلے کے حامی کونسلروں کے درمیان چپقلش جاری تھی اور یوں لگ رہا تھا کہ شاہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں لیڈران باہمی رسہ کشی میں مصروف ہیں لیکن اس میٹنگ کو منعقد کرکے دونوں نے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ میٹنگ میں میونسپل افسران بھی موجود تھے۔ دونوں لیڈران نے ان کونسلروں کے کان بھی کھینچے جو آپسی چپقلش کے سبب میونسپلٹی کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ ساتھ ہی میونسپل افسران کے ساتھ رکے ہوئے کاموں کو پورا کرنے کے تعلق سے غور وخوض بھی کیا گیا۔ 
  لیکن میٹنگ کے بعد ادین راجے بھوسلے کے دیئے گئے بیان سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مہایوتی میں شامل شیوسینا ( شندے) سے تعلق رکھنے والے وزیر سنجے شرساٹ نے بھی یہ الزام لگایا تھا کہ حکومت محکمہ سماجی انصاف کا فنڈ لاڈلی بہن اسکیم میں خرچ کر رہی ہے ۔ بعد میں اس معاملے پر پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ ادین راجے نے وارننگ دی ہے کہ بلدیہ کے کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ چونکہ پہلی بار منتخب ہونے والے کونسلروں کو انتظامی کاموں کا کم تجربہ ہے اس لئے بلدیہ کے سی ای او کو ان کی صحیح رہنمائی کرنی چاہئے۔ ادین راجے نے یہ نہیں بتایا کہ فنڈ کی کمی کے سبب جو کام ادھورے پڑے ہیں یا شروع نہیں ہو پا رہے ہیں، انہیں پورا کرنے کیلئے کون راستہ نکالا گیا ہے۔ یاد رہے کہ راج ٹھاکرے سے لے کر سپریہ سلے تک اور وجے وڈیٹیوار سے لے کر سنجے رائوت تک اپوزیشن کے تقریباً تمام لیڈران لاڈلی بہن اسکیم پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ بی جے پی کے گنیش نائیک نے بھی ایک مرتبہ کاموں  میں رکاوٹ کیلئے لاڈلی بہن اسکیم کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK