Inquilab Logo Happiest Places to Work

طبیلے میں گائے تھی ہی نہیں، کیمیکل کے ذریعے دودھ تیار کیا جا رہا تھا!

Updated: July 14, 2026, 12:50 PM IST | Satara

ستارا کے پلٹن میں ایف ڈی اے کا چھاپہ، افسران نے بڑے پیمانے پر نقلی دود ھ کا ذخیرہ ضبط کرکے ضائع کر دیا۔

FDA has seized fake milk in many places. Photo: INN
ایف ڈی اے نے کئی جگہ پرنقلی دودھ ضبط کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

ایف ڈی اے کے کمشنر  تکارام منڈے کی ہدایت پر گزشتہ کئی دنوں سے جعلی دودھ بیچنے والوںک ے یہاں چھاپہ مار کارروائی ہو رہی ہے۔۔ اس کی وجہ سے ملاوٹ کرنے والوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔کئی مقامات پر ٹینکروں کو ضبط کیا گیا اور صحت کیلئے نقصاندہ  دودھ کو بہا دیا گیا۔ لیکن ستارا م کے پلٹن تعلقے میں  ایف ڈی اے کی کارروائی کے دوران حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔وہ طبیلہ جہاں لوگ خالص دودھ کیلئے قطار لگایا کرتے تھے ، وہاں دراصل کیمیکل کے ذریعے تیار کر دہ دودھ فروخت کیا جا رہا تھا۔ وہاں کوئی گائے تھی ہی نہیں ۔ 

یہ بھی پڑھئے: چمبور: خستہ حال اسکول کے ۷۰۰؍ طلبہ آن لائن پڑھائی پر مجبور

موصولہ اطلاع کے مطابق فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ٹیم کو پلٹن تعلقے میں نیرا ندی کے کنارے واقع ہول گاؤں میں ایک طبیلے میں مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع ملی تھی۔ اس اطلاع کی بنیاد پر ٹیم نے اچانک اس جگہ پر چھاپہ مارا۔ جب تلاشی لی گئی تو معلوم ہوا کہ وہاں ایک بھی گائے یا بھینس  نہیں ہے ، البتہ بڑی مقدار میں دودھ ہے اور دودھ بنانے کا سامان۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ جعلی دودھ کیمیائی عمل کے ذریعے تیار کیا جا رہا تھا جو بالکل قدرتی دودھ کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ ایف ڈی اے  کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے دودھ بنانے کیلئے استعمال ہونے والا کیمیکل اور دیگر مشکوک مواد قبضے میں لے لیا  اور انہیں لیبارٹری ٹیسٹنگ کیلئے بھیج دیا گیا۔ اس سنگین واقعے کے بعد ٹیم نے ملزمین کے خلاف پلٹن (دیہی) پولیس اسٹیشن میں باضابطہ معاملہ درج کر لیا ہے، اور پولیس اب معاملے کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انصاری مزمل احمد نے کنیڈا یونیورسٹی سے ’ماسٹر اِن بزنس اینالٹک‘ میں ٹاپ کیا

اس کریک ڈاؤن کے بعد ایک بار پھر یہ بات زور پکڑ گئی ہے کہ پلٹن تعلقہ میں جعلی اور کیمیکل سے لیس دودھ کا ایک بڑا نیٹ ورک سرگرم ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق یہ کارروائی صرف برفانی تودے کی ایک نوک ہے اور اس بات کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب بھی تعلقہ میں ایسے کئی مقامات پر چھپ کر کیمیکل سے بھرا دودھ تیار کیا جا رہا ہے۔ اسلئے مطالبہ یہ ہے کہ انتظامیہ صرف ایک کارروائی پر نہ رکے بلکہ اس پورے ریکیٹ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ایک جامع کریک ڈاؤن شروع کرے۔اگر کیمیکل سے بنا یہ زہریلا دودھ روزانہ لوگوں کے گھروں اور بچوں کے دودھ کے گلاسوں میں پہنچ رہا ہے تو یہ صرف ملاوٹ کا جرم نہیں بلکہ شہریوں کی صحت کے ساتھ کھیلا جانے والا جان لیوا کھیل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK