کیا عمران خان کے دوبارہ وزیراعظم بننے کا راستہ صاف ہوتا جا رہا ہے ؟

Updated: July 29, 2022, 1:37 PM IST | Agency | Islamabad

پنجاب میں وزیراعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے والے پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کا یہ کہنا معنی رکھتا ہے کہ ’’ اب ہم عمران خان کو دوبارہ ان کے عہدے تک پہنچانے کیلئے کام کریں گے‘‘، ماہرین کی نظر میں اگر آج الیکشن ہو گئے تو پی ٹی آئی کی جیت یقینی ہے

Will Imran Khan be able to regain his 2018 popularity?.Picture:INN
کیا عمران خان ۲۰۱۸ء والی مقبولیت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ تصویر: آئی این این

 پاکستان میں ان دنوں سیاسی ہلچل پھر تیز ہو گئی ہے کیونکہ عمران خان جنہیں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا  پھر اپنی عوامی مقبولیت کو ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔   ان کی پارٹی نے جہاں پنجاب  صوبے میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں وہیں  پاکستانی سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے طور پر تقرری کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے پرویز الٰہی کو یہ عہدہ سونپنے کا فیصلہ سنایا ہے۔  اس فیصلے کے سبب جہاں سپریم کورٹ پر تنقید ہو رہی ہے وہیں پاکستان تحریکِ انصاف نے عدالتی فیصلے پر  جشن منایا ہے۔ سپریم کورٹ کے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کے فیصلے کے بعد چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے  وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں اور انہوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب صدر عارف علوی سے ایوانِ صدر میں اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں رہے لیکن حکومت میں شامل جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیوپلس پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔البتہ نئے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے ایک مشن پورا ہو گیا ہے اور اب ہم دوسرے مشن کیلئے تن من دھن کی بازی لگائیں گے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ’’ اب عمران خان کو واپس اپنی کرسی پر لے کر آئیں گے۔‘‘ ادھر پاکستان کے  وزیر اعظم شہباز شریف نے عدالتی فیصلے پر کہا کہ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا تاکہ انصاف نہ صرف ہوتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا۔ ان کے بقول عدالتی فیصلے سے قانون دانوں، سائلین، میڈیا اور عوام کی حصولِ انصاف کیلئے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا، آئین اور ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ حکومت کو سخت مؤقف اختیار کرنا چاہئے اور اس موقع پر اٹھنا چاہئے۔ لیڈر ایسے حالات سے بنتے ہیں جب انہیں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پیوپلس پارٹی کے  لیڈر سعید غنی کہتے ہیں عدالتوں سے وزرائے اعظم قتل ہوتے، ہٹتے دیکھے لیکن وزیراعلیٰ بنتے پہلی بار دیکھا ہے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہمیں بھی اپنی جماعت کے ساتھ لفظ `انصاف کا اضافہ کر دینا چاہئے تاکہ ہم بھی انصافی اداروں کو اپنے لگنے لگیں۔جے یو آئی (ف) اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے جمہوریت کا عدالتی قتل کیا ہے۔ ان کے بقول،’’ ہم نے کبھی فوجی آمریتوں کو قبول نہیں کیا تو عدالتی مارشل لاؤں کو بھی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔‘‘
 واضح رہے کہ ۲۲؍ جولائی کو حمزہ شہباز کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے کی رولنگ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے دی تھی جس کے خلاف تحریک انصاف کے وزارتِ اعلیٰ  کیلئے کیلئے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیر اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی تھی۔مذکورہ ججوں پر مشتمل بینچ پر سماعت سے قبل ہی حکمراں اتحاد نے تنقید کرتے ہوئے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔سپریم کورٹ کا فیصلہ چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں آنے کے بعد چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے اعلیٰ عدالت کے ججز کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکیوں، دھونس کے خلاف اور آئین و قانون کے ساتھ کھڑے رہے۔ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ بدھ کو وہ یومِ تشکر منائیں گے اور پاکستان کے عوام اور خاص طور پر اپنی حمایت کرنے والوں کے ساتھ جشن منائیں گے۔واضح رہے کہ پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت کے قیام کے بعد پی ٹی آئی کی ملک کے تین صوبوں میں حکومت ہو گی۔ عمران خان کی پارٹی کی خیبرپختونخوا میں حکومت ہے جب کہ بلوچستان میں وہ اتحادی حکومت کا حصہ ہے اور پنجاب میں اس کا مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد ہے۔پنجاب کے نئے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویزنے بدھ کو عمران خان سے ملاقات کی تھیاور کابینہ کیلئے وزرا کے ناموں پر مشاورت بھی کی جائے گی۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے قومی لیڈر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹی وی پر ایوانِ صدر سے وزیر اعلیٰ کا حلف براہِ راست نہ دکھانے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور وہ اگلے مہینے نوکریوں پر نہیں رہیں گے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیکریٹری انفارمیشن نے ایک کریمنل کے احکامات کی بجا آوری میں اپنی ذمے داریوں سے انحراف کیا اور اس حرکت کو نہیں بھولیں گے۔  یاد رہے کہ جس طرح عمران خان کی پارٹی نے پنجاب جیسے مسلم لیگ (ن) کے دبدبے والے صوبے  پر قبضہ جمایا ہے اس  سے پاکستانی سیاست میں ایک طرح سے کھلبلی مچی ہوئی ہے۔   ماہرین اس بات پر تبصرہ کر رہے ہیں کہ کیا عوام نے عمران خان کے اس بیانیے کو قبول کر لیا ہے کہ موجودہ حکومت امریکہ کی ایما پر انہیں ہٹاکر بنائی گئی ہے؟   ان کے جلسوں میں آئے دن بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ عوامی احتجاج کے آگے مجبور ہو کر مرکزی  حکومت کو نئے الیکشن کروانے پڑ جائیں۔ پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت الیکشن ہو گئے تو عمران خان کی پارٹی کو جیتنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے یہ بات یوں ہی نہیں کہی ہے کہ اب پارٹی کارکنان عمران خان کو دوبارہ ان کے عہدے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے اس کی کوششیں جاری ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK