Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے دو فلسطینی مبلغین پر مسجد اقصیٰ میں ایک ہفتے کیلئے پابندی عائد کر دی

Updated: April 28, 2026, 7:03 PM IST | Tal Aviv

اسرائیلی حکام نے دو معروف فلسطینی علما کو مسجدِ اقصیٰ میں داخلے سے ایک ہفتے کیلئے روک دیا، جسے انہوں نے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ علما نے خبردار کیا کہ یہ پابندی چھ ماہ تک بڑھائی جا سکتی ہے اور اسے غیر قانونی و ناانصافی پر مبنی اقدام کہا۔

The courtyard of Al-Aqsa Mosque. Photo: INN.
مسجد اقصیٰ کا احاطہ۔ تصویر:آئی این این۔

اسرائیلی حکام نے دو نمایاں فلسطینی مبلغین کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجدِ اقصیٰ میں داخلے سے ایک ہفتے کیلئے روک دیا ہے۔ پیر کو جاری بیانات میں شیخ رائد صلاح اور شیخ کمال الخطیب نے کہا کہ انہیں اسرائیلی حکام نے پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا اور مسجد میں داخلے پر ایک ہفتے کی پابندی کا حکم دیا گیا۔ صلاح نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ہمیں مسجدِ اقصیٰ میں داخلے سے روکنے کا حکم ملا ہے۔ جب ہم سے ہمارے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو ہم نے کہا کہ مسجدِ اقصیٰ خالصتاً اسلامی حق ہے اور ہمیں وہاں جانے کا حق حاصل ہے۔ ‘‘انہو  نے اسرائیلی پابندی کو ’غیر قانونی‘ اور’ناانصافی‘ قرار دیا۔ صلاح نے اس پابندی کو’ہمارے دین پر حملہ‘ اور’مذہبی ظلم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یروشلم میں اسلامی وقف ہی مسجد کا واحد مجاز ادارہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا فلسطینی گھروں کی مسماری کا حکم، غیر قانونی آبادکاروں کی آگ زنی

چھ ماہ تک توسیع کا امکان
دوسری جانب، الخطیب نے کہا کہ ایک ہفتے کی پابندی میں توسیع کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا’’یہ واضح ہے کہ اگلے اتوار کو یروشلم ڈسٹرکٹ پولیس کمانڈر کی جانب سے اس پابندی کو چھ ماہ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کی ملکیت ہے اور کسی اور کو اس کی ایک ذرہ مٹی پر بھی حق نہیں۔ ‘‘بتا دیں کہ مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کیلئےدنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہودی اس مقام کو ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قدیم زمانے میں یہاں دو یہودی معابد موجود تھے۔ اسرائیلی حکام اس سال مشرقی یروشلم اور اسرائیل کے اندر سیکڑوں علما اور نمازیوں کے خلاف اسی نوعیت کے احکامات جاری کر چکے ہیں، جو عموماً ایک ہفتے کی پابندی سے شروع ہوتے ہیں اور چھ ماہ تک بڑھائے جا سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امید ہے کہ حماس غیر مسلح ہوجائے گا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

شیخ رائد صلاح پہلے اسرائیل میں اسلامی تحریک کے سربراہ رہ چکے ہیں، جبکہ شیخ کمال الخطیب اس کے نائب رہنما تھے، یہاں تک کہ اسرائیل نے نومبر ۲۰۱۵ء میں اس تنظیم پر اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت پابندی عائد کر دی۔ اس سے قبل اسرائیلی حکام شیخ صلاح پر مسجدِ اقصیٰ میں داخلے پر۱۵؍ سالہ پابندی بھی عائد کر چکے تھے جو ۲۰۲۲ءمیں ختم ہوئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK