Updated: October 26, 2026, 5:04 PM IST
| New York
نیویارک کے بروکلین برج پارک میں ۸۹؍ ہزار ڈالر مالیت کے انسان نما اے آئی روبوٹ نے لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے، بچوں کو گانے سنانے اور رقص کرنے کی سرگرمیوں سے سب کی توجہ حاصل کرلی۔ روبوٹ کو مستقبل میں بچوں کی دیکھ بھال، تدریس اور انسانی رفاقت کیلئے تیار کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی بڑھتی صلاحیتوں نے انسانوں کے مستقبل سے متعلق نئے سوالات بھی کھڑے کردیئے ہیں۔
انسان نما روبوٹ پارک میں گھومتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
نیویارک کے بروکلین برج پارک میں اتوارکو مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس ایک انسان نما روبوٹ کو حقیقی لوگوں کے درمیان گھلتے ملتے دیکھا گیا۔ روبوٹ کے ساتھ موجود اس کے نگراں نے اخبار ’دی پوسٹ‘ کو بتایا کہ اسے بظاہر انسانوں کے ساتھ میل جول کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کا طریقہ سیکھنے کیلئے وہاں لایا گیا تھا، تاکہ مستقبل میں اسے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے، استاد یا ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس روبوٹ کو کیلیفورنیا میں قائم کمپنی فراڈے فیوچر (Faraday Future) نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی افسر ہونگ راؤ نے یہ بات بتائی۔ وہ تقریباً ۸۹؍ ہزار ڈالر مالیت کے اس روبوٹ کو ایک چھوٹے ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلا رہے تھے، جب انہوں نے اخبار ’دی پوسٹ‘ کے ایک فوٹوگرافر سے گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کارروائی پر نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں اختلاف
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پارک میں موجود بہت سے لوگوں نے اس قدِ آدم روبوٹ کو دیکھ کر کوئی خاص حیرت ظاہر نہیں کی۔ روبوٹ پارک میں گھومتا رہا، بچوں کیلئے گانے گاتا، لوگوں کے ساتھ رقص کرتا اور مین ہٹن کے خوب صورت نظاروں سے لطف اندوز ہوتا دکھائی دیا۔ تقریباً ایک درجن خوش باش خواتین نے بھی بروکلین اور مین ہٹن پلوں کے درمیان پس منظر میں روبوٹ کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ بروکلین برج پارک بظاہر مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹس کی سرگرمیوں کا ایک اہم مقام بنتا جا رہا ہے۔ برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق، مارچ میں بھی یہاں ایک روبوٹ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سپر یاٹ کیلئے امیروں میں مقابلہ، پارکنگ کے لیے مہنگی جگہ حاصل کرنا مشکل
اتوارکو پیش آنے والا یہ منظر کسی سائنس فکشن فلم کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ماہ قبل نوبیل انعام یافتہ مصنوعی ذہانت کے ماہر نے امریکی کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ انسانوں کو یا تو تیزی سے ’شعور‘ حاصل کرنے والے روبوٹس سے دوستی کرنا سیکھنا ہوگا یا پھر انہیں اپنی بقاکیلئےسنگین خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹس کا تعلق پہلے ہی جنگ، جنسی ہراسانی اور انسانی کارکنوں کی جگہ لینے جیسے تنازعات سے جوڑا جا چکا ہے۔