Updated: October 26, 2026, 4:04 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ مجوزہ کارروائی سے ایران کے ساتھ فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے نیتن یاہو پر انتخابی فائدے کے لیے خوف پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
آرمی چیف اور بنجامین نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے درمیان ایک مجوزہ فوجی کارروائی پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی ٹی وی چینل۱۲؍ کی اتوار کی رپورٹ کے مطابق، اس کارروائی کے نتیجے میں اسرائیل کے انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ فوجی تصادم چھڑنے کا خدشہ ہے۔ چینل کے مطابق، ایال ضمیر نے ہدایت پر عمل درآمد سے قبل اس معاملے پر تفصیلی بحث اور سیاسی قیادت سے تحریری قانونی منظوری طلب کی۔ تاہم، نشریاتی ادارے نے مجوزہ فوجی کارروائی کی نوعیت ظاہر نہیں کی۔ رپورٹ میں فوجی حلقوں کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی قیادت۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل انتخابی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ایران کے ساتھ کشیدگی کو استعمال کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اوبامہ نے مہنگائی کیلئے ٹیرف پالیسی اور ایران جنگ کو ذمہ دار ٹھہرایا
ایک سیکوریٹی عہدیدار نے خبردار کیا کہ یہ کارروائی تیزی سے ایران کے ساتھ تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے اور انتہائی حساس وقت میں کسی غلط اندازے یا فیصلے کے باعث حالات بگڑ سکتے ہیں۔ تاہم، نیتن یاہو نے اتوار کو اسرائیلی چینل ۱۴؍کو انٹرویو دیتے ہوئے ایال ضمیر کے ساتھ کسی بھی قسم کے اختلاف کی تردید کی۔ انہوں نے کہا، ’’کوئی تصادم نہیں ہے۔ ‘‘چینل۱۲؍ کے مطابق، سیاسی عہدیداروں نے بھی ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایران کے معاملے کو انتخابی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور فوج کو ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم، چینل۱۲؍ یہ تصدیق نہیں کرسکا کہ خفیہ رکھی گئی مجوزہ فوجی کارروائی کا ان ہدایات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ نیتن یاہو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کردیا ہے اور انتخابات کو اسرائیل کی بقا کا معاملہ قرار دیا۔
اس سے قبل اتوار کو نیتن یاہو نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ ایک تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی، جس میں تل ابیب کے اوپر جوہری دھماکے کا منظر دکھایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خدشے سے متعلق انتباہ بھی جاری کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں گادی آئزن کوٹ اور یائیر گولان نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ انتخابات سے قبل خوف اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔