Updated: June 28, 2026, 9:58 PM IST
| Tel Aviv
سابق اسرائیلی وزیرِ انصاف ڈینیل فریڈمین نے سنیچر کو کہا کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نیتن یاہو اور اسرائیل دونوں کو ذلیل کرنے کا موقع دیا، مزید یہ کہ غزہ کی تباہی نے حماس کے حملے کی بحث کو پسِ پشت ڈال دیا اور دنیا بھر کے لوگ، بشمول دوست اور اتحادی، تیزی سے اسرائیل کے خلاف ہو گئے۔
سابق اسرائیلی وزیرِ انصاف ڈینیل فریڈمین نے سنیچر کو کہا کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نیتن یاہو اور اسرائیل دونوں کو ذلیل کرنے کا موقع دیا۔ فریڈمین نے اسرائیلی اخبار "معاریو" میں لکھا کہ غزہ کی جنگ کے نتائج اور اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت و عالمی امیج پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔فریڈمین نے کہا کہ لاکھوں لوگ دنیا بھر میں جو تصاویر دیکھ رہے ہیں وہ ’’تباہ حال غزہ کی پٹی، مردہ اور زخمی بچے، اور ملبے کے درمیان بھٹکتے لوگ، جو تیز دھوپ یا شدید بارش میں خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب اسرائیل کے مفاد میں ہے اور اس کی دفاعکو مضبوط کرتا ہے، لیکن یہ صرف جزوی حقیقت ہے۔ جبکہ اسرائیل کے تعلق سے جو رائے عامہ میں تبدیلی آئی ہے وہ اکثر اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ۷ ؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات کے فوراً بعد عالمی رائے عامہ بڑی حد تک حماس کے خلاف تھی، لیکن جنگ جاری رہنے اور وقت گزرنے کے ساتھ غزہ کی تباہی نے حماس کے حملے کی بحث کو پسِ پشت ڈال دیا اور دنیا بھر کے لوگ، بشمول دوست اور اتحادی، تیزی سے اسرائیل کے خلاف ہو گئے۔فریڈمین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ’’یہودی دہشت گردی‘‘کے بارے میں بھی خبردار کیا اور یہودی اور عرب حملہ آوروں کے ساتھ غیر مساوی سلوک اور وزراء اور اتحادی اراکینِ پارلیمنٹ کے بیانات پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام بیانیہ اسرائیل کی سلامتی پر حملہ ہے، اس کی حیثیت کو کمزور کرتا ہے، دشمنوں کو مضبوط کرتا ہے اور پابندیوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
مزید برآں واشنگٹن سے تعلقات کے تعلق ، فریڈمین نے کہا کہ نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری نے ٹرمپ کو انہیں اور اسرائیل کو ’’ ذلیل‘‘ کرنے کا موقع دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ستمبر ۲۰۲۵ء میں اسرائیل نے حماس کے سینئر لیڈروں کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی، جو قطر میں امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات کے لیے گئے تھے۔ فریڈمین کے مطابق، ٹرمپ نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ قطری لیڈروںسے معافی مانگیں اور یقین دہانی کریں کہ اسرائیل قطری سرزمین پر حملے نہیں کرے گا۔
فریڈمین نے ایران کے ساتھ امریکی فریم ورک معاہدے پر بھی تنقید کی، جس نے حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں پر پابندیاں عائد کیں اور اسرائیل کے موقف کو نظرانداز کیا۔ ان کے مطابق، ٹرمپ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر عالمی توانائی کی روانی بحال کرنے کے خواہاں تھے، اور اس کے لیے وہ نہ صرف امریکی ڈالر بلکہ اسرائیلی مفادات قربان کرنے کو تیار تھے۔ فریڈمین نے لکھا کہ اس طرح ہم ایک بین الاقوامی کشمکش میں قابلِ تجارت شے بن گئے جس پر ہمارا کوئی اثر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہودیوں کے ساتھ اس طرح کی تجارت اور ان کی قیمت پر سودے بازی کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ تاہم اپنی تنقید کے باوجود، فریڈمین نے کہا کہ ’’ہم ٹرمپ کے بہت مقروض ہیں‘‘ جبکہ نیتن یاہو پر ذاتی سیاسی بقا کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے غزہ کی جنگ کو طول دیا تاکہ وہ عہدے پر برقرار رہ سکیں، باوجود اس کے کہ یہ ایک بڑی سیاسی ناکامی تھی۔ فریڈمین نے کہا کہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کا اسرائیلی پالیسی پر اثر انداز ہونا ایک فائدہ ہے، کیونکہ انہوں نے غزہ کی لامتناہی جنگ روکی اور یرغمالوں کو واپس لایا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کی ڈجیٹل ٹیکس لگانے والوں کو ٹیریف کی دھمکی
اس کے علاوہ لبنان میں جنگ کی منطق پر بھی شکوک ہیں، شاید بہتر ہے کہ وہ ہمیں وہاں بھی روک دیں۔تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی فیصلہ سازی پر بیرونی اثر و رسوخ بھاری قیمت پر آتا ہے –یہ قیمت آزادی کا نقصان ہے جس کے لیے اسرائیلی نوجوانوں کی نسلوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ فریڈمین نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل دو متحارب سیاسی رویوں کے درمیان چوراہے پر کھڑا ہے، جس میں نیتن یاہو کی اتحادی حکومت اور سابق وزیرِ اعظم اسحاق رابن کے نقطہِ نظر کا موازنہ کیا۔ یہ محض امیج کا سوال نہیں بلکہ بنیادی سوال ہے کہ ہم کیسی ریاست بننا چاہتے ہیں اور اس کا قیام کیوں ہوا؟ نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیرِ خزانہ بیزالل ا سموٹریچ شامل ہیں، جو مغربی کنارے میں سخت سکیورٹی اقدامات اورغیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کے حامی ہیں۔ دونوں وزراء نے مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اسموٹریچ بارہا غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ اور وہاں بستیوں کی تعمیر نو کا مطالبہ کر چکاہے۔