• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

غزہ میں اسرائیلی حملوں میں ۶۰؍ فلسطینی جاں بحق، درجنوں زخمی

Updated: December 01, 2023, 8:12 PM IST | Jerusalem

غزہ کے وزرات صحت نے بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی ختم ہونے اور اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے سبب ۶۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر نے ایکس کے ذریعے اسرائیلی حملوں کے سنگین نتائج سے متنبہ کیا ہے اور کہا کہ جنگ جاری رہنے کا مطلب غزہ اور مغربی کنارہ میں نئی نسل کشی ہے۔

Photo: PTI
تصویر: پی ٹی آئی

غزہ کے وزات صحت نے بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی ختم ہونے اور اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے سبب ۶۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے دوبارہ جنگ کے آغاز کے ’’سنگین نتائج ‘‘ سے متنبہ کیاہے۔اس ضمن میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی جنگ کے جاری رہنے کا مطلب غزہ اور مغربی کنارہ میں نئی نسل کشی ہے۔ ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے سنگین نتائج کے بارے میں نہیں سوچا۔ 

یونیسیف نے غزہ میں قتل عام سے خبردار کیا ہے
غزہ میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد یونیسیف کے ترجمان نے دباؤ ڈالا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان’’حتمی جنگ بندی‘‘ کی شدید ضرورت ہے۔جیمس ایلڈر نے کہا کہ غزہ میں مزید حملے قتل عام کا سبب بنیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں جنگ بندی ختم ، اسرائیل نے پھر سے غزہ میں فضائی حملے شروع کر دیئے

فلسطین کی حمایت میں اردن میں مارچ ، سیکڑوں افراد کی شرکت  
غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے کیلئے اردن میں بڑے پیمانے پر مارچ کیا گیا جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اردن کے درالحکومت عمان میں واقع الحسینی مسجد کے سامنے یہ مارچ نکالا گیا تھا جوجمعہ کی نماز کے بعد شروع ہواتھا۔اسلامک ایکشن فرنٹ پارٹی کی دعوت پر’’آپ کے حکم پر غزہ‘‘کے عنوان سے مارچ کا انعقاد کیا گیاتھا۔

غزہ میں طبی ٹیموں کیلئے زخمیوں کاعلاج بڑا چیلنج 
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر توقف کے خاتمے اور غزہ پر دوبارہ اسرائیلی بمباری کے بعد طبی ٹیمیں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہیں۔ وزرات صحت کے ترجمان اشرف القدرا نے کہا کہ اسپتالوں میں بھیڑ ہونے کے سبب ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس اور آپریٹنگ رومز میں زخمی افراد فرش پر پڑے ہوئے ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK