ترکی نے امریکہ اور ایران دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور کشیدگی کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان۔ تصویر: آئی این این
ترکی نے انکشاف کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے جو امریکہ کو ایران پر فوجی حملے کے لئے مسلسل اکسا رہا ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کے مطابق ان کا ملک ان تمام سفارتی اور عسکری چالوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہا ہے جو خطے کو ایک نئی اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ترکی خطے میں کسی بھی نئی جنگ یا عدم استحکام کے حق میں نہیں ہے۔ ایران میں امن اور استحکام ترکی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی بھی تصادم کے اثرات براہِ راست پڑوسی ممالک اور پورے خطے پر پڑیں گے۔ انہوں نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور تمام فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مطالبہ کیا۔ ترکی نے ایران کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے مسائل کا حل سفارت کاری میں تلاش کرنے پر زور دیا۔ترک وزیر خارجہ نے علاقائی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئےایک ٹھوس روڈ میپ پیش کیا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز پائیدار امن کے لئےناگزیر ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کی امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکاف سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور ترکی اس معاملے پر امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ فوجی کارروائی کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔ ترکی نے امریکہ اور ایران دونوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور کشیدگی کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں۔
اسی دوران آذربائیجان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان ٹکراؤ کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ جیہون بیراموف نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے دوٹوک موقف سے آگاہ کیا۔ آذربائیجان کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو برادر ملک ایران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔ جیہون بیراموف نے واضح کیا کہ ان کا ملک ایسے تمام بیانات اور اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جو خطے میں عدم استحکام یا بدامنی کا باعث بنیں۔دونوں وزرائے خارجہ نے پڑوسی ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا برقرار رکھنے پر زور دیا۔