Updated: March 18, 2026, 4:02 PM IST
| Tehran
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے درمیان آبنائے ہرمز میں تیل اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً ۹۰؍ جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزرے ہیں۔ دوسری جانب جاپان نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس راستے میں جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے۔
(۱) تقریباً ۹۰؍ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے
ایران کے خلاف جاری جنگ کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور رپورٹس کے مطابق تقریباً ۹۰؍ جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزرے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کیلئے ایک کلیدی راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایک اہلکار نے کہا کہ’’جنگ کے باوجود اس راستے کا کھلا رہنا عالمی معیشت کیلئے ضروری ہے، کیونکہ اگر یہاں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘ اگرچہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے، لیکن اب تک مکمل طور پر جہاز رانی بند نہیں ہوئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تمام فریق عالمی اقتصادی اثرات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس اہم راستے پر خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں، جس سے عالمی منڈیوں پر فوری اثر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کشیدگی کے درمیان خام تیل کی قیمت میں ۳؍ فیصد سے زیادہ کی کمی
(۲) جاپانی وزیر خارجہ نے ایران سے جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا
جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی نے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’جاپان کیلئے توانائی کی سپلائی انتہائی اہم ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس اہم سمندری راستے میں جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔‘‘ جاپان کی معیشت بڑی حد تک خلیج فارس سے آنے والے تیل پر انحصار کرتی ہے، اس لئے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ اس کیلئے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ ایرانی حکام نے اس معاملے پر کہا ہے کہ وہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، تاہم موجودہ جنگی صورتحال چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔