Updated: March 18, 2026, 3:59 PM IST
| Dubai
بنگلہ دیش کے وزیر کھیل امین الحق، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مستقبل پر حتمی فیصلہ لینے سے قبل آئی سی سی سے مشاورت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایک دوسری کمیٹی بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں، جو اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ اس سال ہندوستان اور سری لنکا میں ہونے والے مردوں کے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کیوں حصہ نہیں لے سکا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ۔ تصویر:ائی این این
بنگلہ دیش کے وزیر کھیل امین الحق، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مستقبل پر حتمی فیصلہ لینے سے قبل آئی سی سی سے مشاورت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایک دوسری کمیٹی بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں، جو اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ اس سال ہندوستان اور سری لنکا میں ہونے والے مردوں کے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کیوں حصہ نہیں لے سکا۔
۱۱؍ مارچ کو وزارت کھیل نے گزشتہ سال ہونے والے بی سی بی انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں، ہیرا پھیری اور طاقت کے غلط استعمال کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ بی سی بی نے پیر کو اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کا قیام، بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے بورڈ کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
بنگلہ دیش کے سابق فٹ بال کپتان امین الحق نے کہا کہ پانچ رکنی کمیٹی جب اپنی رپورٹ ۱۵؍ کام کاج کے دنوں کے اندر سونپ دے گی، تب وہ اس معاملے پر آئی سی سی سے بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ سال بی سی بی انتخابات میں ہماری پچھلی حکومت کی براہِ راست مداخلت تھی۔ میں نے کئی بار اس بارے میں بات کی ہے۔ ڈھاکہ کے کلبوں اور اضلاع سے ملنے والے الزامات کے بعد ہم نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے۔ میں ان کی رپورٹ پڑھوں گا، لیکن اگلا قدم آئی سی سی سے بات کرنے کے بعد ہی اٹھاؤں گا۔‘‘
انتخابات کے وقت تمیم اقبال اور ڈھاکہ کے کئی کلب عہدیداروں نے انتخابات میں ہیرا پھیری کے الزامات لگائے تھے۔ انتخابات سے پہلے ہی بی سی بی کے صدر امین الاسلام پر بھی مداخلت کے الزامات لگے تھے۔ انتخابات سے چند ہفتے قبل بھیجے گئے ایک دستخط شدہ خط میں امین الاسلام نے وزارت کھیل سے کچھ اضلاع کے کونسلرس کو تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تمیم نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ بی سی بی نے نامزدگی کاغذات داخل کرنے کی آخری تاریخ دو بار بڑھائی تھی۔ تمیم نے یکم اکتوبر کو اپنا نام واپس لے لیا تھا، جبکہ امین الاسلام نے۵؍اکتوبر کو ان الزامات کی تردید کی تھی، جو کہ پولنگ سے ایک دن پہلے تھا۔
یہ بھی پڑھئے:فلسطینیوں سے ہمدردی، اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ: امریکی سروے
امین الحق نے کہا کہ تفتیش کار یہ بھی دیکھیں گے کہ انتخابات سے قبل ضلعی منتظمین (ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹرز) نے اپنی نامزدگیاں کیسے تبدیل کیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی بی سی بی کے الیکشن کمشنرز، موجودہ بورڈ صدر، بی سی بی ڈائریکٹرز اور سی ای او سے بات کرے گی۔ یہ ان ضلعی منتظمین سے بھی رابطہ کرے گی جنہوں نے بی سی بی کونسلروں کی نامزدگی کی تھی۔ الزام ہے کہ کئی ضلعی منتظمین نے ایک کونسلر کا نام بھیجنے کے بعد، ایک خط ملنے پر نیا نام بھیج دیا تھا۔ میرا ماننا ہے کہ ان معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:کنگ کے بعد شاہ رخ خان رومانوی فلم میں نظر آئیں گے
ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے معاملے میں بی سی بی نے سیکوریٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان جانے سے انکار کر دیا تھا، جس پر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ورلڈ کپ میں شامل کر لیا تھا۔ اس پر امین الحق نے کہا کہ ’’ہم یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ ہم ورلڈ کپ میں کیوں نہیں گئے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہماری کھیلوں کی سفارت کاری (اسپورٹس ڈپلومیسی) کہاں کمزور پڑی۔ اس موضوع پر عید کے بعد ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے گی۔ ہمیں اپنی اسپورٹس ڈپلومیسی کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں یہ غلطی دوبارہ نہ ہو۔‘‘