• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر انتخابی بد عنوانی کا الزام عائد کیا

Updated: October 29, 2026, 7:01 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پارٹی نے عرب جماعتوں پر اسرائیلی الیکشن ’چرانے‘ کا الزام لگایا، ساتھ ہی وسیع پیمانے پر دھاندلی کا دعویٰ بھی کیا ہے،جبکہ حالیہ انتخاب میں نیتن یاہو کے اتحادیوں کو ۵۳؍ سیٹوں پر کامیابی ملی، حزب اختلاف کو ۴۸؍ ، جبکہ عرب پارٹیوں کو ۱۹؍ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: X
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے بدھ۲۸؍ اکتوبر کو عرب سیاسی جماعتوں پر ملک کے انتخابات میں وسیع پیمانے پرانتخابی بد عنوانی  کے ذریعے ووٹ چرانے کا الزام لگایا، جب کہ ابتدائی نتائج میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا۔ ایک بیان میں، لیکوڈ پارٹی نے الزام لگایا کہ عرب جماعتیں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے رشوت، ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے اور جعلسازی میں ملوث تھیں۔ یاد رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نہ تو نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے مرکزی چیلنجر گاڈی آئزن کوٹ کو پارلیمانی اکثریت حاصل ہونے کی توقع ہے۔
لیکوڈنے کہا، ’’ریاست اسرائیل میں انتخابات عرب جماعتوں نے چرائے ہیں جو دہشت گردی اور ، رشوت، دھمکیوں، تشدد، جعلسازی، اور ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر کے استعمال کے سنگین مجرمانہ جرائم کے ذریعے یہودی ریاست کے خاتمے کی حمایت کرتی ہیں۔پارٹی نے مزید کہا کہ وہ سینکڑوں گواہوں کے بیانات اور شواہد اسرائیلی پولیس، شین بیٹ ڈومیسٹک سیکیورٹی ایجنسی اور سینٹرل الیکشن کمیٹی کے حوالے کر رہی ہے۔
لیکوڈ پارٹی کا الزام ہے کہ کچھ ووٹرز نے متعدد بیلٹ ڈالے

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو واپوزیشن کو اکثریت نہ ملنے پر فلسطینیوں کی زیرقیادت جماعتیں کنگ میکر

لیکوڈنے دعویٰ کیا ہے کہ رعام، ایک عرب سیاسی جماعت، کے لیے نقد رقم اور بیلٹ سے بھرے ہزاروں لفافے ووٹرز میں تقسیم کیے گئے۔ پارٹی نے مزید الزام لگایا کہ کچھ ووٹرز نے متعدد بیلٹ ڈالے، جعلی شناختیں استعمال کیں، اور ٹرن آؤٹ کو مصنوعی طور پر بڑھانے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر پر انحصار کیا۔حالانکہ ان میں سے کسی بھی الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، اور لیکوڈ نے اپنے مبینہ ثبوت کو عام نہیں کیا ہے۔
بعد ازاں پارٹی نے کہا، ’’ہم پولیس اور شین بیٹ سے عرب جماعتوں کی طرف سے انتخابی چوری کی مکمل تحقیقات اور مجرموں کے خلاف مکمل قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ دریں اثناءیہ الزامات نیتن یاہو کے لیے ایک نازک لمحے میں سامنے آئے ہیں، جو صدر ٹرمپ کی حمایت کے باوجود اب اپنی سیاسی بقا کے حوالے سے حقیقی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انتخابات میں گاڈی آئزن کوٹ کے تحت اپوزیشن بلاک نے بے مثال کامیابیاں حاصل کیں، جس سے وہ اسرائیل کی اگلی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا ڈیزل مذاکرات کے درمیان روسی انویسٹمنٹ فنڈ پر پابندی ہٹانے پرغور: رپورٹ

اب تک۸۵؍ اعشاریہ ۶؍ فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نتیجہ غیر یقینی ہے: نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد ۵۳؍نشستوں کے ساتھ آگے ہے،حزب اختلاف اتحاد۴۸؍ نشستوں کے ساتھ اس کے  پیچھے ہے، اور عرب جماعتوں کے پاس۱۹؍ نشستیں ہیں، جس سے ہر بلاک پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے درکار ۶۱؍ نشستوں سے کم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK