Updated: October 28, 2026, 10:05 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کا برسرِ اقتدار اتحاد اور سابق فوج کے سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں موجود اپوزیشن، دونوں ہی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے ریکارڈ ووٹوں نے انتخابات کے نتائج کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ الیکشن کے حتمی نتائج ۴؍ نومبر کو آئیں گے۔
اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق، ۷۶؍ فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد نیتن یاہو کا اتحاد ۵۴؍ نشستوں کے ساتھ آگے ہے، جبکہ اپوزیشن کے اتحاد کو ۴۷؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ابتدائی گنتی میں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والے دو سیاسی دھڑوں جوائنٹ لسٹ اور رعام نے مجموعی طور پر ۱۹؍ نشستیں حاصل کی ہیں، جو اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب قانون سازوں کی ریکارڈ تعداد ہو سکتی ہے۔۱۲۰؍ رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کیلئے درکار ۶۱؍ نشستوں کی اکثریت سے دونوں بڑے گروپ ابھی محروم ہیں۔ یہ نتائج ابتدائی ہیں اور گنتی کے جاری رہنے سے ان میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔
سینٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق، مجموعی طور پر۷۷ء۷؍ فیصد ووٹنگ ہوئی، جوکہ ۱۹۹۹ء بعد سے سب سے زیادہ ووٹنگ کا تناسب ہے۔ منگل کوہوئےیہ انتخابات، ۷؍ اکتوبر کے حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد غزہ جنگ اور اسرائیل کے علاقائی تنازعات کے شروع ہونے کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔ اسرائیل کی آبادی میں فلسطینی شہری تقریباً ۲۰؍ فیصد ہیں اور تاریخی طور پر انہیں اتحادی حکومتوں سے بڑی حد تک دور ہی رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی انتخاب کے بعد کی تقریر: فتح کا دعویٰ، ایران کو کمزور ترین قرار دیا
عربوں کی قیادت والی جماعتوں کی اس شاندار کارکردگی سے حکومت سازی کے مذاکرات میں ان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے، اگرچہ کسی بھی حکومت یا اتحاد میں ان کی شمولیت سیاسی طور پر اب بھی کافی متنازع عمل ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی ۲۷؍ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی سنگل پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے، جبکہ آئزن کوٹ کی یاشر پارٹی نے ۲۰؍ نشستیں حاصل کی ہیں۔ آئزن کوٹ نے کہا کہ یہ نتائج نیتن یاہو کی قیادت پر ’’عدم اعتماد‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کی اس کارکردگی کو ایک ’’خوفناک اور عبرتناک شکست‘‘ قرار دیا۔ تاہم، اپوزیشن اتحاد کیلئے بھی فلسطینیوں کی قیادت والی جماعتوں کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے کی اکثریت حاصل کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔بعد ازاں نفطالی بینیٹ اور اویگدور لیبرمین سمیت اپوزیشن کے متعدد اہم لیڈروں نے عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی اتحاد کو صریحاً مسترد کر دیا ہے۔ سیاسی مبصر میرون رپوپورٹ نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ اگر حکومت بنانے میں کوئی کامیاب نہ ہو سکا تو اسرائیل کو ایک بار پھر دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں زیرِ بحث دوسرا طریقہ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کی مشترکہ قومی وحدت کی حکومت ہے، لیکن ان دونوں لیڈروں کے درمیان موجود شدید سیاسی اختلافات ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
دریں اثناء نیتن یاہو نے عربوں کی قیادت والی جماعتوں پر منحصر حکومت بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے اس طرح کے بندوبست کو ’’شرمناک اور ذلت آمیز‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا، ’’اسرائیل کو خطرے میں ڈالنا اور صیہونیت مخالف عرب جماعتوں کے سہارے حکومت بنانا بالکل منع ہے، یہ سراسر غلط ہے۔‘‘ انہوں نے ان جماعتوں پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ’’ہمارے وجود ہی کے خلاف ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ٹرمپ کی حمایت کے باوجود سٹہ بازار میں نیتن یاہو کی شکست کی پیش گوئی
دوسری طرف، رعام کے سربراہ منصور عباس نے نیتن یاہو پر ان کی پارٹی کے خلاف ’’جھوٹ بولنے اور بھڑکانے‘‘ کا الزام لگایا، جب کہ وزیرِ اعظم نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی اسرائیل میں رعام کے سینئر عہدیداروں کو نقد رقم کے لفافوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے ان پر ’’انتخابات چرانے‘‘ کی کوشش کا الزام لگایا۔ تاہم، اسرائیلی انتخاب کے حکام نے کہا کہ انہیں کسی بھی قسم کی وسیع پیمانے پر دھاندلی یا مداخلت کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔منصور عباس نے اسرائیل کے فلسطینی شہریوں پر زور دیا کہ وہ بڑی تعداد میں نکل کر رعام کیلئے ووٹ دیں۔ اسرائیل کےوان لیر انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار امیر فخوری نے فلسطینی شہریوں کی اس بیداری اور یکجہتی کو ایک ’’حقیقی تاریخی پیش رفت‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی ووٹرز غزہ میں ہونے والی تباہی، مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدداور خود اسرائیل کے اندر عرب شہریوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خدشات کی وجہ سے متحد ہوئے ہیں۔ ان کی اس الیکشن میں کامیابی انہیں حکومت سازی کے مذاکرات میں ایک اہم ترین مقام (کنگ میکر) پر کھڑا کر سکتی ہے، چاہے وہ رسمی طور پر حکومت کا حصہ نہ بھی بنیں۔
یہ بھی پڑھئے: الخلیل: اسرائیلی کارروائی میں بے گھر فلسطینیوں کیلئے شہریوں نے گھر کھول دیئے
مذاکرات کے شروع ہوتے ہی نیتن یاہو فی الحال قائم مقام وزیرِ اعظم کے طور پر اپنے عہدے پر فائزہیں. اسرائیل کے پارلیمانی نظام کے تحت، سرکاری نتائج کے باضابطہ اعلان کے بعد صدر مذاکرات کے شروع ہوتے ہی نیتن یاہو فی الحال قائم مقام وزیرِ اعظم کے طور پر اپنے عہدے پر فائزہیں. اسرائیل کے پارلیمانی نظام کے تحت، سرکاری نتائج کے باضابطہ اعلان کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ مختلف سیاسی دھڑوں سے مشورہ کریں گے اور اس قانون ساز کو نامزد کریں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہوگا کہ اس کے پاس حکومت بنانے کا سب سے زیادہ موقع ہے۔ نامزد فرد کے پاس کم از کم ۶۱؍ ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت کے ساتھ حکومت بنانے کیلئے ۴۲؍ دنوں کا وقت ہوگا۔