آسٹریلیا نے صدر اسرائیلی ہرزوگ کے سڈنی دورے میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف مظاہرین کو خبردار کیا، جبکہ انسانی حقوق کے وکلاء اور کارکنان غزہ میں نسل کشی کے الزام میں ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 9:02 PM IST | Sydney
آسٹریلیا نے صدر اسرائیلی ہرزوگ کے سڈنی دورے میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف مظاہرین کو خبردار کیا، جبکہ انسانی حقوق کے وکلاء اور کارکنان غزہ میں نسل کشی کے الزام میں ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آسٹریلیائی حکام اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے بانڈی بیچ میں ہوئے فائرنگ کے واقعے کے متاثرین کی تعزیت کے لیے شہر کا دورہ کرنے کے دوران اسرائیل کے ذریعے غزہ میں نسل کشی پر ناراض مظاہرین کو سڈنی کی سڑکوں پر تشدد سے گریز کرنے سے خبردار کیا ہے۔پولیس نے سنیچر کو کہا کہ وہ اسرائیلی صدر کے دورے کے دوران بڑی تعداد میں تعینات رہیں گے۔واضح رہے کہ بانڈی ساحل پر اسرائیلی تہوار ہنوکا کی تقریب میں فائرنگ کے نتیجے میں۱۵؍ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔نیو ساؤتھ ویلز کےاہلکارکرس منس نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’یہ بہت اہم ہے کہ سڈنی کی سڑکوں پر کوئی جھڑپ یا تشدد نہ ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جینیوا اکیڈمی کا انتباہ، غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے
بعد ازاں منس نے کہا، ’’ہمارا واضح اور غیر مبہم پیغام یہ ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ لوگ صدارتی دورے کے دوران پرسکون اور بااحترام رہیں گے۔‘‘منس نے کہا کہ پیر کی دوپہر سڈنی میں ’’پولیس کی بھاری موجودگی ہوگی۔جبکہ ریاستی پولیس نے اس دورے کو ’’اہم واقعہ‘‘ قرار دیا ہے، ایک ایسی اصطلاح جو اہلکاروں کو مختلف گروہوں کو الگ کرنے کی اجازت دیتی ہے تاکہ تصادم کا خطرہ کم ہو۔علاوہ ازیںفلسطین کے حامی کارکنان نے ملک بھر میں احتجاج کی اپیل کی ہے، بشمول سڈنی کے مرکزی حصوں جہاں پولیس نے بانڈی بیچ حملے کے بعد نئے اختیارات کے تحت مظاہروں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریلیا نے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے خاتمے کے لیے اکٹھے ہوں، اور ہرزوگ پر جنگ کے جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا بحری بیڑا بارسلونا سے ۲۹؍ مارچ کو دوبارہ غزہ کیلئے روانہ ہوگا
یاد رہے کہ اقوام متحدہ ازاد تفتیشی ادارے نے۲۰۲۵ء میں پایا کہ ہرزوگ نے یہ کہہ کر کہ’’ تمام فلسطینی بحیثیت ایک پوری قوم۷؍ اکتوبر کے حملے کے ذمہ دار ہیں، ‘‘نسل کشی کے ارتکاب کی تحریک دی۔تاہم آسٹریلیا کی وفاقی پولیس نے گرفتاری سے انکار کر دیا ہے، اور قانون سازوں سے اس ہفتے کہا ہے کہ انہیں قانونی مشورہ ملا ہے کہ ہرزوگ کو ’’مکمل استثنیٰ‘‘ حاصل ہے جو سول اور فوجداری معاملات بشمول نسل کشی کا احاطہ کرتا ہے۔