Inquilab Logo

رفح میں ۸؍ محاذوں پر بیک وقت یلغار، پورے شہر پر قبضہ کی کوشش

Updated: June 23, 2024, 11:18 AM IST | Agency | Rafah

محفوظ علاقہ قراردیئے گئے ’المواصی‘ پر یکے دیگرے دوبار شدید حملہ کیاگیا، پورے غزہ پر بمباری تیز کردی گئی، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۳۷؍ ہزار ۵۵۱؍ ہوگئی۔

The scene after the Israeli bombardment of a residential building on Saturday. Photo: INN
سنیچر کو ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی بمباری کے بعد کا منظر۔ تصویر : آئی این این

 رفح پر فوج کشی اورمصر کے ساتھ سرحدی گزر گاہ رفح کراسنگ کا کنٹرول سنبھالنے کے ڈیڑھ ماہ بعد اسرائیلی فوجوں نے پورے شہر پر قبضہ کرنے کیلئے سنیچر کو فیصلہ کن کارروائی شروع کردی۔ اس کے تحت شہر بھر میں  بیک وقت ۸؍ محاذوں پر حملے کئے جارہے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ قبضہ کرتے ہوئے فوج شہر میں  داخل ہوجائے۔ اس دوران الجزیرہ نے الشاطی اور التفاح کیمپوں  پر بمباری میں   ۴۲؍ افراد کے جاں  بحق ہونے کی اطلاع دی ہے جبکہ ٹائمز آف غزہ نے اپنے ایکس پوسٹ میں  بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجوں  نے ۲۴؍ گھنٹوں میں   قتل عام کے مترادف ۳؍ شدید حملے کئے ہیں جن میں ۱۰۱؍ افراد شہید اور ۱۶۹؍ زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوجیں  یکے بعد دیگرے رہائشی عمارتوں  کو نشانہ بنارہی ہیں۔ 
 رفح میں  ۸؍ محاذوں  پر بیک وقت حملے
 جمعہ کو اسرائیلی ٹینکوں کے ذریعہ رفح کے کئی علاقوں میں زبردست کے بعد سنیچر کو کارروائیوں  میں  شدت پیدا کردی گئی۔ ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کے نامہ نگار وں کے مطابق سنیچر کو ۸؍ سمتوں   سے رفح میں حملےکئےجارہے ہیں۔ رفح کراسنگ اور صلاح الدین کوریڈور، تال زروب تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجیں پاسپورٹ راؤنڈ اباؤٹ، بینک آف فلسطین، صلاح الدین گیٹ اور ذو النورین مسجد کے آس پاس بھی حملے کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے یبنا اور عزوز محور اور انجینئرز سنڈیکیٹ کے اطراف سے بھی شہر میں گھسنے کی کوشش کی ہے۔ علاقہ میں موجود شہریوں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع پورے شہر پر اپنا قبضہ مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے ۷؍ مئی کو مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کے فلسطینی حصے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پھرایک امتحان ملتوی، کمیٹی تشکیل، نیا قانون نافذ، ایک کروڑ جرمانہ

شہیدوں  کی تعداد ۳۷؍ ہزار ۵۰۰؍ سے تجاوز کر گئی
غزہ میں اسرائیلی حملوں  میں  جاں  بھق ہونے والوں  کی تعداد سنیچر کو ۳۷؍ ہزار ۵۵۱؍ ہوگئی جبکہ ۸۵؍ہزار ۹۱۱؍افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ا س بیچ سنیچر کو اسرائیل نے المواصی کیمپ جسے محفوظ علاقہ قراردیاگیاتھا، پر یکے بعد دیگرے ۲؍ حملے کئے ہیں   جبکہ الشاطی اور التفاح کیمپوں  پر بھی بری طرح بمباری کی ہے۔ ان حملوں  میں  کم از کم ۴۲؍ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق المواصی کیمپ حملے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینک کیمپ پر حملہ کرنے کیلئے پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے۔ کیمپ کے رہائشی نے بتایا کہ دو ٹینک ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھے جہاں سے المواصی کیمپ واضح نظر آرہا تھا اور پھر انھوں نے کیمپ پر گولے برسائے، جس میں بے گھر غریب فلسطینیوں کے پناہ لی ہوئی تھی۔ 
 پورے غزہ پر حملے تیز
  الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے سنیچر کو پورے غزہ پر حملے تیز کردیئے ہیں۔ المواصی کیمپ پر حملے کے بعد جنوبی غزہ کے بھی کئی علاقوں  پر بے تحاشہ بمباری کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوجوں  نے وسطی غزہ کے الشاطی کیمپ میں  سنیچر کو پھرایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ بلڈنگ میں بے گھر ہونے والے فلسطینی شہریوں  نے بچوں  کے ساتھ پناہ لے رکھی تھی۔ 
 ریڈ کراس کے دفتر پر حملہ، جانچ کی مانگ
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب غزہ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے دفتر پر اسرائیل کی بمباری میں کم سے کم ۲۲؍ افراد جاں بحق اور ۴۵؍ زخمی ہو گئے ہیں۔ بمباری کا نشانہ بننے والی عمارت میں بڑی تعداد میں پناہ گزین مقیم تھے۔ کمیٹی نے ’ایکس‘ پوسٹ کے ذریعہ اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری طرف یورپی یونین کے امور خارجہ کے ذمہ دارجوزف بوریل نے ریڈکراس پر حملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یورپی یونین اُس بمباری کی مذمت کرتا ہے جس میں   ریڈکراس کا دفتر تباہ ہوگیا۔ اس کی آزادانہ جانچ کرکے ذمہ دار افراد کی جوابدہی طے کی جانی چاہئے۔ ‘‘ ریڈکراس نے رات کو ہونے والے حملے کے تعلق سے ابتدائی بیان میں  کہا ہے کہ ’’ اس حملہ کے نتیجے میں علاقے میں واقع ریڈ کراس فیلڈ اسپتال میں لاشوں اور زخمیوں کی بڑی تعداد لائی گئی جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے جبکہ ۲۲؍ افراد فوت ہوچکے ہیں  اور ۴۵؍ زخمی ہیں۔ بعض کی حالت انتہائی نازک ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK