Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ غزہ جنگ میں امریکہ برابر کا شریک ہے‘‘

Updated: July 04, 2024, 1:13 PM IST | Washington

گزشتہ ۹؍ مہینوں میں بطور احتجاج مستعفی ہونے والے امریکی افسران نے بائیڈن انتظامیہ پر قانون کی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنے کا الزا م عائد کیا۔

1.9 million people have been displaced due to the Gaza war. Photo: INN
غزہ جنگ کی وجہ سے ۱۹؍ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کے سابق افسران  کے ایک گروپ نے غزہ کے تعلق سے امریکی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھ کر نہ صرف امریکہ کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ ملک کی سلامتی کو بھی خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ ۹؍ مہینوں میں غزہ جنگ سے متعلق امریکی پالیسی کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دینے والے ۱۲؍سابق افسران نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی انتظامیہ اسرائیل کو ہتھیار بھیج کر امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں آج پارلیمانی الیکشن، تیاریاں مکمل، اقتدار میں تبدیلی کا قوی امکان

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکہ کی طرف سے سفارتی طور پر پردہ ڈالا جانا اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی مسلسل ترسیل سےیہ ثابت ہو گیا ہے کہ غزہ  میں محصور فلسطینی آبادی کے فاقہ کشی پر مجبور کئے  جانے اور وہاں شہری ہلاکتوں میں امریکہ بھی  برابر کا ذمہ دار ہے۔‘‘  ان سابق افسران   نے اپنے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کو اپنے سفارتی اور سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے غزہ میں جاری جنگ کو ختم کروانا اور اس فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل میں توسیع کروانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ۷؍ اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کے بیچ بائیڈن انتظامیہ نے  جنگ روکنے کے نام پر زبانی جمع خرچ تو خوب کیا مگر تل ابیب کو اس کی جانب سے نہ صرف ڈھیل دی جاتی رہی بلکہ ہتھیاروں کی فراہمی بھی بلا رُکے جاری رہی۔ امریکی ہتھیاروں کے سہارے ہی تل ابیب  نے غزہ میں قتل وغارت گردی کا سلسلہ دراز کررکھا ہے۔ اس نے جنگ بندی کی قراردوں کو اقوام متحدہ میں ویٹو کرکے اسرائیل کی پشت پناہی بھی کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK