• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، فلسطینی خاندان غاروں میں پناہ لینے پر مجبور

Updated: September 26, 2026, 9:59 PM IST | Gaza

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے بعد متاثرہ خاندانوں نے پہاڑیوں میں غار تراش کر رہائش اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ مکانات کی مسماری اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث۲۰۲۶ء میں بھی ہر ماہ سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہو رہے ہیں۔

A Palestinian family can be seen taking shelter in a cave. Photo: IIN
ایک فلسطینی خاندان کو غار میں پناہ لئے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر : آئی آئی این

مقبوضہ مغربی کنارے میں الخلیل کے قریب واقع مسافر یطا کے فلسطینیوں نے اپنے گھروں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مسمار کئے جانے کے بعد پناہ کیلئے پہاڑی ڈھلوانوں میں غار تراشنے کا سہارا لیا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ ۲۰۲۵ء میں کم از کم ۱۲۶۷؍فلسطینی عمارتیں مسمار کی گئیں۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں۔ اسرائیلی حقوق کی تنظیم بتسیلم کے مطابق۲۰۰۶ءسے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد یہ کسی ایک سال میں مسمار کی جانے والی عمارتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یمن: ۳؍ ہفتوں کے دوران ۷۱؍ ہزار بچے بے گھر، یونیسف کا اظہارِ تشویش

اسرائیلی حکام عموماً انہدام کے احکامات کی بنیادی وجہ تعمیراتی اجازت نامے کی عدم موجودگی کو قرار دیتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی فلسطینیوں کی ترقی اور تعمیرات کو محدود کرتی ہے اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسی مقبوضہ فلسطینی علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ اکتوبر۲۰۲۳ء میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ شروع کئےجانے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد میں مزید شدت آئی، جہاں ہلاکتوں، گرفتاریوں، مکانات کی مسماری اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع میں اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق ۲۰۲۶ءمیں بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور مکانات کی مسماری اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث ہر ماہ سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہو رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK