• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمن: ۳؍ ہفتوں کے دوران ۷۱؍ ہزار بچے بے گھر، یونیسف کا اظہارِ تشویش

Updated: September 26, 2026, 2:09 PM IST | Geneva

یونیسف کے مطابق تقریباً ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار افراد گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، ۱۵؍ بچے ہلاک اور ۱۴؍ زخمی ہوئے، جبکہ ۲۴۳؍ اسکول بند یا معطل رہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران بڑھتے ہوئے مسلح تصادم نے بچوں کے لیے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف کے مطابق گزشتہ ۳؍ ہفتوں میں تقریباً ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے، جن میں تقریباً ۷۱؍ ہزار بچے شامل ہیں۔ زیادہ تر متاثرہ خاندان جنوب مغربی صوبے تعز یا اس کے اندرونی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ یونیسف کے یمن میں نمائندے اکیل ایئر نے جمعہ کو جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ تنازع کے ساتھ بھوک اور غذائی قلت کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ ان کے بقول ’’تصادم بھوک کو بڑھاتا ہے اور بھوک بچوں کو تصادم کے لیے مزید غیر محفوظ بنادیتی ہے۔‘‘ انہوں نے فریقین سے بچوں، شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: کردفان، سوڈان: ۰۸ء۳؍ لاکھ سے زائد افراد بے گھر، ۱۰؍ میں ۱۱۸؍ واقعات

یونیسف کی موبائل غذائی ٹیموں نے گزشتہ ہفتوں کے دوران ان علاقوں میں تقریباً ۲؍ ہزار ۹۰۰؍ بچوں کا معائنہ کیا جہاں ادارے کو محفوظ انسانی رسائی حاصل ہے۔ ان میں ایک چوتھائی سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے، جبکہ تقریباً ۲۰۰؍ بچے شدید ترین درجے کی غذائی قلت میں مبتلا تھے۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان علاقوں کی محدود تصویر پیش کرتے ہیں جہاں اس کی ٹیمیں پہنچ سکی ہیں۔ ادارے کے مطابق ۲۰۲۶ء میں یمن بھر میں ۵؍ سال سے کم عمر کے ۲۲؍ لاکھ سے زیادہ بچوں کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا اندازہ ہے۔ ان میں ۵؍ لاکھ سے زیادہ بچوں کو شدید ترین غذائی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہ صورت حال حالیہ لڑائی میں اضافے سے پہلے ہی موجود تھی، جبکہ اب نقل مکانی، خوراک کی کمی اور صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی نے خطرات میں اضافہ کردیا ہے۔

حالیہ لڑائی میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ یونیسف نے تصدیق کی ہے کہ ستمبر کے آغاز سے اب تک کم از کم ۱۵؍ بچے ہلاک اور ۱۴؍ زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ۳؍ بچے تاحال لاپتہ بتائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے ۱۶؍ ستمبر کو یونیسف نے بتایا تھا کہ ۳؍ ستمبر سے ۲؍ ہفتوں کے دوران کم از کم ۹؍ بچے ہلاک، ۱۲؍ زخمی اور ۳؍ لاپتہ ہوئے تھے۔ لڑائی نے تعلیم کا سلسلہ بھی متاثر کیا ہے۔ گزشتہ ۳؍ ہفتوں میں ۲۴۳؍ اسکول بند ہوگئے یا وہاں تدریس معطل رہی، جس سے تقریباً ایک لاکھ ۴۰؍ ہزار طلبہ متاثر ہوئے۔ یونیسف کے مطابق ۱۶؍ ستمبر تک بھی یہی ۲۴۳؍ اسکول ایک لاکھ ۳۷؍ ہزار سے زیادہ بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا سبب بند رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: بن گویر کے دور میں ۲۸؍ فیصد اسرائیلی پولیس اہلکار فورس سے نکل گئے

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق ۱۹؍ ستمبر تک اگست کے آغاز سے مغربی ساحلی علاقوں میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ ۲۵؍ ہزار ۹۷۶؍ افراد نقل مکانی کرچکے تھے، جبکہ جون میں شروع ہونے والی اس شدت کے بعد مجموعی طور پر بے گھر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ ۲۷؍ ہزار ۳۲؍ تک پہنچ گئی تھی۔ تعز میں سب سے زیادہ ۷۲؍ ہزار ۶۶؍ بے گھر افراد موجود تھے، اس کے بعد لحج میں ۳۳؍ ہزار ۶۶۰؍ افراد تھے۔ یمن سے لوگ بحیرہ احمر عبور کرکے جبوتی بھی پہنچ رہے ہیں۔ یونیسف کے مطابق ستمبر کے وسط میں صرف ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران تقریباً ایک ہزار ۴۰۰؍ افراد، جن میں خواتین اور بڑی تعداد میں بچے شامل تھے، جبوتی کے ساحل پر پہنچے۔ سمندری سفر کے دوران بچوں کو شدید گرمی، پانی کی کمی اور تحفظ سے متعلق خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے ۲۲؍ ستمبر کو بتایا تھا کہ یمن میں حالیہ لڑائی کے باعث اس مہینے ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور آئندہ ۳؍ ماہ میں مزید ایک لاکھ افراد کے نقل مکانی پر مجبور ہونے کا خدشہ ہے۔ زیادہ تر لوگ یمن کے اندر ہی منتقل ہوئے ہیں، تاہم ۳؍ ہزار سے زیادہ افراد بحیرہ احمر عبور کرکے افریقی ممالک پہنچ چکے تھے۔ یمن میں حوثی تحریک اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والی قوتوں کے درمیان لڑائی نے جولائی سے دوبارہ شدت اختیار کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حوثی جنگجوؤں کی پیش قدمی اور مغربی ساحلی علاقوں میں لڑائی کے باعث کئی برس کی نسبتاً پرسکون صورت حال کے بعد ایک بار پھر بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسکول کی دیواروں سے لندن فیشن ویک تک پہنچا ’آدرش بالک‘

بچوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیو دی چلڈرن نے بھی ستمبر میں بتایا تھا کہ ایک اگست سے ۹؍ ستمبر کے درمیان یمن میں کم از کم ۱۹؍ بچے ہلاک اور ۴۹؍ زخمی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق اس عرصے میں شہریوں کی مجموعی ہلاکتوں اور زخمیوں میں بچوں کا تناسب بھی نمایاں تھا، جبکہ بڑی تعداد میں متاثرین فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا شکار ہوئے۔ یونیسف نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کریں، شہری تنصیبات کو نقصان سے بچائیں اور انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تازہ لڑائی ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب یمن کے لاکھوں بچے پہلے ہی خوراک، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے بحران سے دوچار ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK