اسرائیلی فوج نے ایران کی ساحلی جنوبی پارس فیلڈ میں گیس تنصیبات پر حملہ کردیا جس کے بعد گیس کی پیداوار معطل کردی گئی ہے۔ اسرائیلی حملے کے بعد ۲۵؍ ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی۔
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 2:58 PM IST | Tehran
اسرائیلی فوج نے ایران کی ساحلی جنوبی پارس فیلڈ میں گیس تنصیبات پر حملہ کردیا جس کے بعد گیس کی پیداوار معطل کردی گئی ہے۔ اسرائیلی حملے کے بعد ۲۵؍ ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی۔
اسرائیلی فوج نے ایران کی ساحلی جنوبی پارس فیلڈ میں گیس تنصیبات پر حملہ کردیا جس کے بعد گیس کی پیداوار معطل کردی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد ۲۵؍ ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی، جنوبی پارس دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخیرے کا ایرانی حصہ ہے، جو خلیج میں امریکہ کے قریبی اتحادی قطر کے ساتھ مشترکہ ملکیت ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے ایران کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جبکہ ایران کے جوابی حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دو اعلیٰ ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا ہے۔ اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے خلیج بھر میں تیل اور گیس کے اہداف کو نشانہ بنانے کا عہد کرتے ہوئے قطر اور سعودی عرب پر میزائل داغے ہیں۔
قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی قطر انرجی نے راس لافان انڈسٹریل سٹی پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد’’بڑے پیمانے پر نقصان‘‘ کی اطلاع دی ہے۔ اس تازہ صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی میں غیر معمولی تعطل پیدا کر دیا ہے، جس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ٹرمپ تقریباً چار ہفتے قبل ایران پر حملے میں اسرائیل کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔
ٹرمپ اسرائیل کے ایرانی گیس فیلڈ پر حملے سے لاعلم، اسرائیل کو مزید حملے نہ کرنے کا حکم
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اسرائیل کے ایرانی گیس فیلڈ پر حملے سے لاعلم نکلے دوبارہ حملے سے روک دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل کے ایرانی گیس فیلڈ پر حملے سے لا علم نکلے۔ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایرانی پارس گیس فیلڈ پر دوبارہ حملے سے روک دیا جب کہ ٹرمپ نے ایران کو سخت خبردار کیا ہے کہ وہ قطری ایل این جی پر دوبارہ حملہ نہ کرے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایران کی پارس گیس فیلڈ پر حملے کا علم نہیں تھا۔ قطر بھی ایرانی گیس فیلڈ پر حملے میں کسی صورت ملوث نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:یو سی ایل: لیورپول کوارٹر فائنل میں داخل، نیو کیسل اور اسپرز ٹورنامنٹ سے باہر
اسرائیلی حملے میں گیس فیلڈ کا نسبتاً چھوٹا حصہ متاثر ہوا۔ امریکہ کو اس خاص حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، ایران کو بھی گیس فیلڈ پر حملے کے حقائق کا علم نہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس حملے میں قطر ملوث ہے اور نہ اس کو اندازہ تھا کہ ایسا حملہ ہونے والا ہے۔ ایران نے قطر کی ایل این جی تنصیب کے ایک حصے پر بلا جواز حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے:دنیا کا واحد ملک افغانستان، جہاں آج عید منائی جا رہی ہے!
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل اب ایران کی جنوبی پارس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کرے گا۔ اس وقت تک ایسا نہیں کرے گا، جب تک ایران ایسا کوئی حملہ نہ کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر قطر پر دوبارہ حملہ ہوا تو ایران کی پوری گیس فیلڈ کو اڑا دیں گے اور ایران پر ایسی طاقت سے حملہ کریں گے کہ پہلے اس نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میں تشدد اور تباہی کی اس سطح تک نہیں جانا چاہتا، جس میں ایران کے مستقبل پر طویل اثرات ہوں۔ لیکن قطری ایل این جی تنصیب پر دوبارہ حملہ ہوا تو مزید تباہی سے گریز نہیں کروں گا۔